بلوچستان میں اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار، 12 لاکھ 60 ہزار ایکڑ زمین قومی تحویل میں واپس

قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان نے سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرا لی ہے۔نیب بلوچستان کے مطابق صوبہ بھر میں جاری انسدادِ قبضہ مہم کے دوران اب تک مجموعی طور پر تقریباً 12 لاکھ 60 ہزار ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے

اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان نے سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرا لی ہے۔نیب بلوچستان کے مطابق صوبہ بھر میں جاری انسدادِ قبضہ مہم کے دوران اب تک مجموعی طور پر تقریباً 12 لاکھ 60 ہزار ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے جس کی مالیت 1784 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے قومی دولت کو دوبارہ ریاستی تحویل میں لایا گیا ہے۔نیب نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان اور ادارے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کے لئے پرعزم ہیں اور سرکاری اراضی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مشترکہ اقدامات جاری ہیں۔بیان کے مطابق کوئٹہ، حب، گوادر اور دیگر اضلاع میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کے خلاف آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ واگزار کرائی گئی زمین محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے حوالے کر دی گئی ہے تاکہ اسے عوامی مفاد اور ماحولیاتی تحفظ کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔نیب بلوچستان نے کہاکہ مستقبل میں سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے محفوظ رکھنے کے لئے جدید ریکارڈ سسٹم اور ڈیجیٹلائزیشن کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں گوادر کی اراضی کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے جس سے زمینوں کے ریکارڈ کو محفوظ اور شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔نیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرکاری وسائل کے تحفظ اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھی جائیں گی۔

مزید خبریں