بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر پاکستان کے دشمن ہیں، وہ ملک دشمن قوتوں کے اشاروں پر کارروائیاں کر رہے ہیں، رانا ثناء اللہ خان

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے پیر کے روز سینیٹ کو آگاہ کیا کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر پاکستان کے دشمن ہیں اور وہ ملک دشمن قوتوں کے اشاروں پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس کے نکات کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ …

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے پیر کے روز سینیٹ کو آگاہ کیا کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر پاکستان کے دشمن ہیں اور وہ ملک دشمن قوتوں کے اشاروں پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس کے نکات کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 177 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 17 اہلکار اور 33 شہری شہید ہو چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کو کسی صورت ’’ناراض‘‘ یا محروم گروہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے بتایا کہ شہید ہونے والے 17 اہلکاروں میں 10 پولیس، 6 فرنٹیئر کور اور ایک لیویز اہلکار شامل ہیں جبکہ 33 شہری دہشت گردوں کی جانب سے گھروں اور رہائشی علاقوں پر حملوں کے دوران شہید ہوئے۔رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ چھوٹے مسلح گروہ کہیں بھی مجرمانہ کارروائیاں کر سکتے ہیں تاہم بلوچستان میں تشدد کا انداز واضح طور پر منظم دہشت گردی کی نشاندہی کرتا ہے، نہ کہ الگ تھلگ جرائم کی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد بارہا بسوں کو روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرتے رہے اور خواتین و بچوں سمیت بے گناہ شہریوں کو ان کے اہل خانہ کے سامنے قتل کیا۔ اسی طرح ٹرینوں پر حملوں خصوصاً جعفر ایکسپریس کے واقعے میں مسافروں کو یرغمال بنا یااور پھر بے دردی سے قتل کیا گیا۔رانا ثناء اللہ نے کہاکہ یہ انتہائی وحشیانہ اقدامات ہیں جنہیں کوئی بھی باشعور انسان درست قرار نہیں دے سکتا اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ محض ناراض عناصر ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے بعد کوئٹہ کے ہسپتالوں سے ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں زبردستی لے جائی گئیں جو خود کو ’’حقوق‘‘ کا علمبردار کہنے والوں کے بیانیے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ یہ دہشت گرد ایک دشمن ملک کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور آپریشن سندور اور دیگر محاذوں پر دشمن کی شکست کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، خصوصاً اس کے بعد کہ جب پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور طاقت کا مظاہرہ کیا جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے کوئٹہ ریڈ زون میں داخل ہونے کی دہشت گردوں کی کوششیں ناکام بنائیں اور جہاں کہیں بھی انہوں نے کارروائی کی کوشش کی، انہیں موثر انداز میں ناکارہ بنایا گیا۔ دہشت گرد فورسز کا براہ راست مقابلہ نہ کر سکے اور اپنے ٹھکانوں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

انہوں نے آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحے کے بعد قومی اتحاد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری قوم نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں فیصلہ کن آپریشنز ہوئے اور دہشت گردی تقریباً ختم ہو گئی۔انہوں نے دہشت گردی کو انتخابات یا کسی سیاسی مطالبے سے جوڑنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس نہ عوامی مینڈیٹ ہے،

نہ کوئی سیاسی ایجنڈا اور نہ ہی جمہوری نظام پر یقین۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحدہ قومی موقف اپنائیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کی مکمل حمایت کریں اور شہداء اور ان کے اہل خانہ کی قربانیوں کا احترام کریں۔