صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی کی زیرِ صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی، ٹیکس وصولی میں بہتری اور ریونیو بیس کو وسیع کرنے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔
بلوچستان میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،صوبائی وزیر خزانہ

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 21 ستمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی کی زیرِ صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی، ٹیکس وصولی میں بہتری اور ریونیو بیس کو وسیع کرنے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ جہانگیر کاکڑ، چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور ان پر ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمپنیوں، ہوٹلز، ہسپتالوں اور دیگر مختلف شعبوں کے آڈٹ کے عمل کو مزید تیز، موثر اور شفاف بنایا جائے گا تاکہ ٹیکس نظام میں شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے صوبائی ریونیو میں اضافہ کیا جا سکے ۔اس موقع پر بتایا گیا کہ گوادر میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا دفتر فعال کر دیا ہے جس سے گوادر اور گردونواح میں ٹیکس سے متعلق امور کی نگرانی اور ٹیکس دہندگان کو خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری آئے گی۔ اس کےعلاوہ جیولرز، بیکریوں، پراپرٹی ڈیلرز، کار شورومز، پانی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ کاروباری شعبوں کو بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ٹیکس دائرکار میں لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
یوٹیوبرز اور آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد و اداروں کو بھی قانونی تقاضوں کے مطابق بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ٹیکس دائر کار میں شامل کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف بنانا اور کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ٹیکس قوانین پر موثر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ جدید کاروباری رجحانات اور آن لائن معیشت کو بھی ٹیکس نظام کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ تمام اقدامات قانون اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیئے اجلاس میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی مزید بہتر بنانے اور صوبائی آمدن میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔







