بلوچستان کے مسائل کاحل سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا براہ راست تعلق افغانستان سے ہے، معیشت آئی سی یو نکل چکی ہے، وزیر دفاع کاقومی اسمبلی میں اظہار خیال

بلوچستان کے مسائل کاحل سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا براہ راست تعلق افغانستان سے ہے، معیشت آئی سی یو نکل چکی ہے، وزیر دفاع کاقومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، آزاد کشمیر کے مہاجرین کی نشستوں کا فیصلہ وہاں کی منتخب اسمبلی اور منتخب عوامی نمائندگان کو کرنا ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا براہ راست تعلق افغانستان سے ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ تنقید کرتے ہوئے ہم ماضی کو بھول جاتے ہیں اور ایسے الزامات ایک دوسرے پر لگاتے ہیں جس کے ہم خود بھی مرتکب ہو چکے ہوتے ہیں، ایک دوسرے پر الزامات لگائے جائیں مگر اپنے ساتھی پر بھی نظر ڈالنی چاہئے ،سیاست میں گرے ایریاز ہوتے ہیں لیکن بعض مواقع پران ایریاز کو کم کیا جاسکتا ہے ۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے امن مذاکرات کو وکٹری سٹینڈ پر پہنچا کر اہم کامیابی حاصل کی ہے ، ایک سال کے اندر دو مراحل ایسے آئے جس نے وطن عزیز کی عظمت کو پوری دنیا میں روشناس کرایا، اس پر ہم وزیر اعظم، فیلڈ مارشل اور ساری ٹیم کے شکر گزار ہیں جنہوں نے دانشمندی سے ناممکن کو ممکن بنایا۔ مئی 2025 ء میں پانچ گنا بڑے دشمن نے ہم پر حملہ کیا جس کا ہم نے منہ توڑ جواب دیا۔ایسے لمحات قوموں کی تاریخ میں صدیوں بعد آتے ہیں جو لائق فخر ہے۔پاکستان کی عزت میں اگر اضافہ ہوا ہے تو قوم کے ہر ایک فرد کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔بطور قوم ہمیں اس کامیابی کا جشن منانا چاہئے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل ایک دو روز میں سامنے نہیں آئے ہیں، ان مسائل کا حل سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، دہشت گردوں نے اگر ہائی ویز اور سڑکوں کو غیر محفوظ بنایا ہے تو اسی ایوان کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کرے، بلوچستان کے مسائل 50 کی دہائی سے ہیں ، بلوچستان کے مسائل کو مشترکہ دانش سے حل کرنا ہو گا کیونکہ بہ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبہ کا نہیں ہے، اس کی ذمہ داری ہم سب کی مشترکہ ہے اور اس کا ایسا حل ہونا چاہئے جو بلوچستان کے عوام کو قابل قبول ہوں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں حالیہ مہینوں میں خوشگواربہتری آئی ہے، ایران کے خلاف پابندیاں ختم ہورہی ہیں، پاکستان کو ان تبدیلیوں سے زیادہ فائدہ ہوگا اور ہمیں زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے، پابندیوں کے خاتمہ کا زیادہ فائدہ بلوچستان کو پہنچے گا۔ وزیر دفاع نے کہاکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا تعلق افغانستان سے ہے، میں خود دو دفعہ کابل گیا ہوں،وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کی تحریری ضمانت دینے کیلئے تیار نہیں ہے، میں ترکیہ اور قطر میں بھی ان سے ملا ہوں، ترکیہ اور قطر کے اعلیٰ اختیارات کے حامل وفود بھی اس میں شامل تھے مگروہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔ہم ہر چیز ان کی تسلی کیلئے کرنے کو تیار ہیں مگر وہ یہ ضمانت دینے کیلئے تیار نہیں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہم نے چالیس سال تک افغانوں کی میزبانی کی مگریہاں امن نہیں آیا، 2022ء سے لیکر اب تک 4 ہزار سکیورٹی اہلکار اور افسران شہید ہو چکے ہیں، یہ اہلکار ان لوگوں کی وجہ سے شہید ہوئے جن کی ہم نے میزبانی کی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ 80 کی دہائی کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میدان جنگ بنا، باہر سے آنے والے لوگ چلے گئے اور سارا ملبہ اور اسلحہ یہاں چھوڑا گیا۔ اس کے منفی اثرات ہم بھگت رہے ہیں۔ پاکستان بات چیت اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے تیارہیں مگراس کی ضمانت دینی ہوگی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ پوائنٹ سکورنگ کیلئے بات نہیں ہونی چاہیے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ دو روز میں ہم نے 21 جنازوں میں شرکت کی ہے، چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہو رہے ہیں، سیاچن اور افغان سرحد پر جولوگ فرائض سرانجام دے رہے ہیں ان کے خاندان بھی ہیں، ان کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور یہ رائیگاں نہیں جائیں گی۔ جو لوگ شہیدہو رہے ہیں انہوں نے وفا کی داستان اپنے خون سے رقم کی ہے ۔ یہ ہم سب کے شہید ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس میں برطانیہ میں مقیم بعض لوگ اور ہندوستان شامل ہیں ، 12 سیٹیں پاکستان میں مہاجرین کی ہے، آزاد کشمیر میں ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے جو وہاں کے مقیم ہیں۔ انہوں نے خون کی لکیر پار نہیں کی تھی، میرے حلقہ میں مہاجرین کی نشست ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خون کی لکیر عبور کی۔شہید مقبول بٹ، چوہدری غلام عباس اور کے ایچ خورشید مہاجرین کی نشستوں سے کامیاب ہو ئے تھے ۔ ان نشستوں کے حوالہ سے فارن فنڈڈ تنظیم بلیک میل کر رہی ہے، ان کے تمام تر مطالبات تسلیم کئے گئے تھے۔ آزاد کشمیر کے عوام اور مہاجرین کو یہ فیصلہ کرنے دیا جائے لیکن کسی جتھہ کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ان کے حلقہ میں پشتون ووٹرز موجود ہیں، ان کی شناخت قائم و دائم ہے۔ اسی طرح پنجاب کے لوگ پشاور اور ملک کے دوسرے حصوں میں رہ رہے ہیں، پشتونوں کیلئے علیحدہ نشستوں کی بات کرنا تفرقہ بازی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ایوان عوام کا نمائندہ ایوان ہے، یہاں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے وفاق اور وطن کے خلاف بات نہیں ہونی چاہیے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور کے آغاز پر ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا لیکن حکومتی اقدامات سے معیشت آئی سی یو نکل چکی ہے۔ معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور امید ہے کہ آنے والے ایک دو سالوں میں جی ڈی پی گروتھ کی شرح کو چھ سے لیکر 7 فیصد تک لے جایا جاسکے گا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی ایسی شرح ہونی چاہئے جہاں لوگ فخر سے خود ٹیکس دے سکیں ۔