سپریم کورٹ کی غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی بے دخلی کے مقدمات 60 روز میں نمٹانے کے احکامات

سپریم کورٹ نے شہریوں کو غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی طور پر بے دخل کرنے کے مقدمات کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت مقدمات کے جلد اور مؤثر تصفیے کے لئے تفصیلی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے شہریوں کو غیر منقولہ جائیداد سے غیر قانونی طور پر بے دخل کرنے کے مقدمات کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت مقدمات کے جلد اور مؤثر تصفیے کے لئے تفصیلی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا جس میں ملک بھر کی عدالتوں کو غیر قانونی بے دخلی ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے فیصلے کی نقل تمام ہائی کورٹس کو ارسال کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ اس پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہے جبکہ فوری اور کم خرچ انصاف کی فراہمی بھی ایک آئینی تقاضا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر ضروری تاخیر منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کے منافی ہے۔سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ غیر قانونی بے دخلی ایکٹ کے تحت دائر مقدمات کو 60 دن کے اندر نمٹایا جائے اور ٹرائل کورٹس قانون میں مقررہ مدت پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی مقدمے میں تاخیر ناگزیر ہو تو اس کی معقول وجوہات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانا لازمی ہوں گی۔

عدالت نے واضح کیا کہ گواہوں کی عدم دستیابی یا وکیل کی جانب سے التوا کی درخواست ازخود تاخیر کی معقول وجہ تصور نہیں کی جا سکتی۔ مزید کہا گیا کہ کسی عبوری حکم کو چیلنج کئے جانے کی صورت میں بھی ٹرائل جاری رکھا جائے گا اور حکم امتناعی کے بغیر کارروائی نہیں روکی جا سکتی۔فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 24 کے مطابق کسی شخص کو قانونی کارروائی کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریاست پر آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سستا، تیز اور مؤثر انصاف فراہم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرے۔سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ ایسی پالیسیوں اور انتظامی اصلاحات کو فروغ دیں جن کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو مزید کم خرچ اور تیز بنایا جا سکے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ضروری احکامات جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد تمام انتظامی اور عدالتی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہائی کورٹس سمیت تمام عدالتی حکام سپریم کورٹ کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کے پابند ہیں۔