لوچستان ہائیکورٹ نے ایم این اے عادل خان بازئی کی سرکاری پولیس سکیورٹی بحال کرنے کی درخواست خارج کر دی۔ پیر کو چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ ماضی میں سکیورٹی ملنے سے مستقل سکیورٹی کا حق پیدا نہیں ہوتا، جبکہ درخواست گزار موجودہ …
بلوچستان ہائیکورٹ ، ایم این اے عادل خان بازئی کی سرکاری پولیس سکیورٹی بحال کرنے کی درخواست خارج

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 05 اکتوبر (اے پی پی):بلوچستان ہائیکورٹ نے ایم این اے عادل خان بازئی کی سرکاری پولیس سکیورٹی بحال کرنے کی درخواست خارج کر دی۔ پیر کو چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ ماضی میں سکیورٹی ملنے سے مستقل سکیورٹی کا حق پیدا نہیں ہوتا، جبکہ درخواست گزار موجودہ خطرے یا حکام کی بدنیتی کا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے۔
عدالت کے مطابق سکیورٹی کا فیصلہ موجودہ خطرے کے جائزے اور متعلقہ حکام کا انتظامی معاملہ ہے۔ تاہم، اگر عادل خان بازئی کو حقیقی خطرہ لاحق ہے تو وہ متعلقہ سکیورٹی کمیٹیوں اور حکام سے دوبارہ خطرے کے جائزے کے لیے رجوع کر سکتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب قانونی طریقہ کار موجود ہونے کے باعث آئینی درخواست میں براہِ راست مداخلت کی ضرورت نہیں، چنانچہ درخواست میرٹ نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کر دی گئی۔







