ریاض ۔12مارچ (اے پی پی):سعودی عرب نے کہا ہے کہ ہماری بندرگاہیں اور ایئرپورٹس برادر ملکوں کے طیاروں کے لیے کھلے ہیں۔العربیہ کے مطابق سعودی وزیر برائے نقل و حمل اور لاجسٹک خدمات انجینئر صالح الجاسر نے جدہ اسلامک پورٹ پر لاجسٹک ٹریکس اقدام کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ اس قدم کا مقصد سپلائی چین کی لچک کو بڑھانا اور خطے میں بحری نقل و حمل کے شعبے میں …
بندرگاہیں اور ایئرپورٹس برادر ملکوں کے طیاروں کے لیے کھلے ہیں، سعودی عرب

مزید خبریں
ریاض ۔12مارچ (اے پی پی):سعودی عرب نے کہا ہے کہ ہماری بندرگاہیں اور ایئرپورٹس برادر ملکوں کے طیاروں کے لیے کھلے ہیں۔العربیہ کے مطابق سعودی وزیر برائے نقل و حمل اور لاجسٹک خدمات انجینئر صالح الجاسر نے جدہ اسلامک پورٹ پر لاجسٹک ٹریکس اقدام کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ اس قدم کا مقصد سپلائی چین کی لچک کو بڑھانا اور خطے میں بحری نقل و حمل کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں بحیرہ احمر اور خلیج عرب میں تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
سعودی وزیر ٹرانسپورٹ نے ’’ العربیہ بزنس ‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مملکت کی بندرگاہیں اور گزرگاہیں علاقائی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے اور خطے کے ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مربوط طریقے سے کام کر رہی ہیں۔نہوں نے وضاحت کی کہ سعودی عرب نے متبادل لاجسٹک راہداریاں فعال کی ہیں۔ سعودی عرب موجودہ تبدیلیوں سے تیزی سے نمٹا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی تحریک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے خلیج عرب اور بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کے درمیان نقل و حرکت میں آپریشنل لچک موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب بحیرہ احمر کی بندرگاہوں میں بڑی گنجائش رکھتا ہے جو سالانہ 17 ملین سے زیادہ کنٹینرز وصول کر سکتی ہیں۔ صالح الجاسر نے کہا کہ یہ بندرگاہیں خلیجی ممالک سے موڑنے والے کنٹینرز کی وصولی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔








