اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):بنگلہ دیشی عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے قریبی ساتھ اور مشیر برائے نجی صنعت و سرمایہ کاری اور بیکسم کو گروپ کے چیئرمین سلمان ایف رحمان کے خاندان کے افراد اور ساتھیوں کے 358 بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم دیا ہے ان پر کئی ہزار کروڑ ٹکے کی بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ یہ حکم ڈھاکہ میٹروپولیٹن کے سینئر …
بنگلہ دیشی عدالت کا سابق مشیر برائے نجکاری کا 358 بینک اکائونٹ منجمد کرنے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):بنگلہ دیشی عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے قریبی ساتھ اور مشیر برائے نجی صنعت و سرمایہ کاری اور بیکسم کو گروپ کے چیئرمین سلمان ایف رحمان کے خاندان کے افراد اور ساتھیوں کے 358 بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم دیا ہے ان پر کئی ہزار کروڑ ٹکے کی بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
یہ حکم ڈھاکہ میٹروپولیٹن کے سینئر سپیشل جج محمد ذاکر حسین غالب نے پیر کو انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر جاری کیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ سلمان ایف رحمان اور ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں نے پلیسمنٹ شیئر میں ہیرا پھیری اور دھوکہ دہی کے ذریعے شیئر ہولڈرز سے ہزاروں کروڑ ٹکے غبن کئے
۔ان الزامات میں تقریباً 36,000 کروڑ ٹکے کے قرضے حاصل کرنے کے لئے مختلف سرکاری اور نجی بینکوں پر غیر قانونی طور پر اثر انداز ہونا ، فنڈز کا غلط استعمال اور ہزاروں کروڑ ٹکے کی خطیر رقوم کو بیرون ملک لانڈرنگ کرنا بھی شامل ہے۔
تحقیقات کے دوران سلمان ایف رحمان، ان کے خاندان کے افراد اور قریبی ساتھیوں سے منسلک بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی جن سے رقوم کی منتقلی، منتقلی یا تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔عدالت نے کہا ہے کہ منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنانے اور انصاف کی فراہمی کے لئے سلمان ایف رحمان ان کے خاندان کے افراد اور ان کے ساتھیوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں۔








