بنگلہ دیش بھر میں شیخ مجیب، ان کے خاندان ، قومی رہنمائوں اور دیگر اہم شخصیات کے ساڑھے چار سو مجسموں کو توڑ ا جا چکا ہے، رپورٹ

ڈھاکہ۔18دسمبر (اے پی پی):بنگلہ دیش بھر میں5اگست 2024 کو شیخ حسینہ واجد کی حکوت کے خاتمے کے بعد شیخ مجیب، ان کے خاندان ، قومی رہنمائوں اور دیگر اہم شخصیات کے ساڑھے چار سو مجسموں کو توڑ ا جا چکا ہے اور ان کی بحالی کا کوئی اقدام زیر غور نہیں۔ ڈھاکا ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ سے ساور جانے والے راستے پر بیجوئے جاترا جو ہمایت پور بازار …

ڈھاکہ۔18دسمبر (اے پی پی):بنگلہ دیش بھر میں5اگست 2024 کو شیخ حسینہ واجد کی حکوت کے خاتمے کے بعد شیخ مجیب، ان کے خاندان ، قومی رہنمائوں اور دیگر اہم شخصیات کے ساڑھے چار سو مجسموں کو توڑ ا جا چکا ہے اور ان کی بحالی کا کوئی اقدام زیر غور نہیں۔ ڈھاکا ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ سے ساور جانے والے راستے پر بیجوئے جاترا جو ہمایت پور بازار کے قریب اسان الاحسار خان مٹھو کا مجسمہ ہے کی ٹوٹی پھوٹی باقیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کا باعث بننے والی طلبہ اور عوام کی بغاوت کے نتیجے میں ڈھاکہ اور دیگر خطوں میں سینکڑوں مجسموں، دیواروں اور یادگاروں کو نقصان پہنچا، انہیں نذر آتش کر دیا گیا یا تباہ کر دیا گیا۔

اہداف میں بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن، ان کے خاندان، چاروں قومی رہنماؤں اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ ساتھ جنگ ​​آزادی اور دیگر تاریخی واقعات کی علامت والے مجسمے شامل تھے۔ڈھاکہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف فائن آرٹس نے ابتدائی طور پر تباہ شدہ مجسموں کو دستاویز کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ مجسمہ سازی کے محکمے کے چیئرمین نسیم الخبیر نے تصدیق کی کہ اگست 2024 کے بعد کے مہینوں میں تقریباً 450 تباہ شدہ مجسموں کی ملک گیر ابتدائی فہرست مرتب کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی بدامنی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں متعدد مجسموں کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ نسیم الخیبر کے مطابق توڑے یا نذر آتش کئےگئے مجسموں کی بحالی یا تعمیر نو کا کوئی موجودہ منصوبہ نہیں ہے۔

مجسمہ سازی کے محکمے کے مطابق بنگلہ دیش کے قیام سے متعلق 300 سے زیادہ دستاویزی مجسموں کو صرف مجیب نگر، مہر پور میں توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔ دیگر تباہ شدہ مجسموں میں جگن ناتھ ہال میں بنگ بندھو کا مجسمہ، شفیع پور میں انصار اکیڈمی کا مجسمہ، چاند پور بس اسٹینڈ کا مجسمہ، اور شیبچر اور راجشاہی میں جنگ آزادی کی یادگاریں شامل ہیں۔ عاشق الرحمن، شیمل چودھری اور مرنال حق سمیت دیگر کے مجسموں کی بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔16 دسمبر 1971 اور شیخ مجیب کی 7 مارچ کی تقریر کی یاد میں بنائے گئے مجسموں کے ساتھ، سہروردی باغ میں کئی زیر تعمیر یادگاروں کو نقصان پہنچا یا گیا جن میں بنگلہ دیش کے قیام کے واقعات کی یادگاریں شامل ہیں۔

ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علم تنزیر حسین نے کہا کہ فلر روڈ پرتباہ کی گئی یادگار میں اصل میں 18 شہیدوں اور ممتاز قومی اور بین الاقوامی شخصیات کے چہرے نمایاں تھے، جن میں رابندر ناتھ ٹیگور، قاضی نذر الاسلام، مائیکل مدھوسودن دت، سبھاس بوس، مہاتما گاندھی اور کمال اتاترک کے مجسمے شامل ہیں ۔ان مجسموں کو 2024 کے بعد توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا ۔

بحالی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈھاکہ ڈسٹرکٹ کونسل کے ایڈمنسٹریٹر محمد اعظم الحق نے کہا کہ وہ کسی بھی اپ ڈیٹ سے لاعلم ہیں۔ وزارت ثقافتی امور نے بھی ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بحالی لوکل گورنمنٹ ڈویژن یا محکمہ تعمیرات کے تحت آتی ہے۔