بنگلہ دیش میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں اضافہ، حکومت کا آئی سی ٹی شعبے کا معاشی حصہ 10 فیصد تک بڑھانے کا ہدف

بنگلہ دیش میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں موبائل صارفین کے مقابلے میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ملک میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت نے آئندہ پانچ سال میں اطلاعات و مواصلات (آئی سی ٹی) کے شعبے کا قومی معیشت میں حصہ 10 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

ڈھاکہ۔3اگست (اے پی پی):بنگلہ دیش میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں موبائل صارفین کے مقابلے میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ملک میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت نے آئندہ پانچ سال میں اطلاعات و مواصلات (آئی سی ٹی) کے شعبے کا قومی معیشت میں حصہ 10 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس نےبنگلہ دیش ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیٹری کمیشن (بی ٹی آر سی) کے تازہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ جون کے اختتام تک ملک میں فعال موبائل صارفین کی تعداد 18 کروڑ 98 لاکھ 30 ہزار جبکہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 13 کروڑ 59 لاکھ 40 ہزار ہو گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران انٹرنیٹ صارفین میں 69 لاکھ 50 ہزار کا اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں موبائل صارفین کی تعداد میں 40 لاکھ 30 ہزار کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل ترقی کا رجحان اب نئے سم کارڈز کے اجرا کے بجائے موجودہ موبائل صارفین کے انٹرنیٹ استعمال میں اضافے سے زیادہ منسلک ہے۔ اپریل سے جون کے دوران انٹرنیٹ صارفین میں 45 لاکھ 20 ہزار جبکہ موبائل صارفین میں 27 لاکھ 60 ہزار کا اضافہ ہوا۔ صرف جون میں 18 لاکھ 70 ہزار نئے انٹرنیٹ صارفین شامل ہوئے، جبکہ موبائل صارفین میں 12 لاکھ 30 ہزار کا اضافہ ہوا۔یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت نے آئی سی ٹی کو ترجیحی شعبہ قرار دیتے ہوئے ڈیجیٹل تبدیلی، رابطوں کے فروغ اور قومی معیشت میں اس شعبے کے کردار کو وسعت دینے کے لیے جامع حکمت عملی متعارف کرائی ہے۔

مالی سال27۔2026کے بجٹ خطاب میں وزیر خزانہ امیر خسرو محمود چوہدری نے کہا کہ حکومت مربوط ڈیجیٹل ریاست اور ڈیجیٹل معیشت کے قیام کے لیے اطلاعات و مواصلات کے شعبے کو کلیدی حیثیت دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موثر منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے ذریعے آئندہ پانچ سال میں آئی سی ٹی کا قومی معیشت میں حصہ 10 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔حکومت کے ڈیجیٹل ایجنڈے میں آبادی کے 90 فیصد حصے تک 5G سروس کی توسیع، 100 ایم بی پی ایس براڈ بینڈ رفتار کی فراہمی، دور دراز علاقوں میں تیز رفتار اور سستی انٹرنیٹ سہولت کے لیے نیشنل فائبر بینک کا قیام، ’’ایک شہری، ایک شناخت، ایک ڈیجیٹل والٹ‘‘ نظام کا نفاذ اور ہر سال دو لاکھ نئی ٹیکنالوجی ملازمتیں پیدا کرنا شامل ہے۔بجٹ میں موبائل سم کارڈ پر عائد 300 ٹکا کا مخصوص ٹیکس ختم کر دیا گیا، جبکہ لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، کمپیوٹر پرنٹرز اور مانیٹرز پر درآمدی ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، اضافی ڈیوٹی اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) بھی ختم کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ مقامی موبائل فون سازی میں استعمال ہونے والے 22 خام مال پر ایڈوانس انکم ٹیکس ایک فیصد کر دیا گیا، مقامی ٹیکنالوجی مصنوعات پر وی اے ٹی میں چھوٹ 2030 تک بڑھا دی گئی، بی ٹی آر سی کی ریونیو شیئرنگ اور لائسنس فیس پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیا گیا، جبکہ آئی سی ٹی کے شعبے میں خواتین اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے 500 کروڑ ٹکا کے اسٹارٹ اپ فنڈ کا بھی اعلان کیا گیا۔

بی ٹی آر سی کے مطابق جون کے اختتام تک 13 کروڑ 59 لاکھ 40 ہزار انٹرنیٹ صارفین میں سے 12 کروڑ 8 لاکھ 40 ہزار موبائل انٹرنیٹ صارفین تھے، جبکہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں (ISP) اور پی ایس ٹی این کے صارفین کی تعداد ایک کروڑ 51 لاکھ رہی۔موبائل کمپنیوں میں گرامین فون 8 کروڑ 65 لاکھ 90 ہزار صارفین کے ساتھ بدستور سب سے بڑی کمپنی رہی، اس کے بعد روبی ایکسیاتا کے 5 کروڑ 85 لاکھ 70 ہزار، بنگلہ لنک کے 3 کروڑ 78 لاکھ 60 ہزار اور ٹیلی ٹاک کے 68 لاکھ صارفین تھے۔