بیونس آئرس۔13دسمبر (اے پی پی):بولیویا کی ایک عدالت نے سابق صدر لوئس آرثے کو بدعنوانی سے متعلق ایک مقدمے میں پانچ ماہ کے لیے قبل از سماعت حراست (پری ٹرائل ڈیٹینشن) میں رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ تاس کے مطابق استغاثہ کے جنرل آفس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک لوئس آرثے کو حراست میں رکھا جائے، کیونکہ حکام کے مطابق ان کے …
بولیویا کے سابق صدر لوئس آرثے کو پانچ ماہ کے لیے جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

مزید خبریں
بیونس آئرس۔13دسمبر (اے پی پی):بولیویا کی ایک عدالت نے سابق صدر لوئس آرثے کو بدعنوانی سے متعلق ایک مقدمے میں پانچ ماہ کے لیے قبل از سماعت حراست (پری ٹرائل ڈیٹینشن) میں رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ تاس کے مطابق استغاثہ کے جنرل آفس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک لوئس آرثے کو حراست میں رکھا جائے، کیونکہ حکام کے مطابق ان کے فرار ہونے یا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کا خدشہ موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق جج ایلمر لورا نے سابق صدر کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور ریاست کو مالی نقصان پہنچانے کے الزامات میں ابتدائی طور پر قصوروار قرار دیا۔ تاہم، دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ لوئس آرثے کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور اپنی ضعیف والدہ کی دیکھ بھال کے باعث انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔عدالت کے حکم کے تحت سابق صدر کو ملک کے عملی دارالحکومت لاپاز کی جیل میں رکھا جائے گا۔ لوئس آرثے کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں بدھ کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس مقدمے کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ لوئس آرثے 8 نومبر 2020 سے 8 نومبر 2025 تک بولیویا کے صدر کے عہدے پر فائز رہے۔








