یونیسیف پنجاب کے وفد نے چیف آف نیوٹریشن سیکشن نجمہ ایوب کی قیادت میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی سے ملاقات کی اور صحت عامہ، ماں اور بچے کی صحت، بچیوں کی تعلیم، غذائیت اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
بچے کو مناسب غذائیت فراہم کرنا اس کی بقا، صحت اور نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے، نجمہ ایوب

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی):یونیسیف پنجاب کے وفد نے چیف آف نیوٹریشن سیکشن نجمہ ایوب کی قیادت میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی سے ملاقات کی اور صحت عامہ، ماں اور بچے کی صحت، بچیوں کی تعلیم، غذائیت اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں پاک کوریا نیوٹریشن سنٹر کے مرکزی منصوبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر معظم رفیق اور ڈائریکٹر ہوم سائنسز ڈاکٹر بینش اسرار بھی موجود تھیں۔ ملاقات کے دوران پاک کوریا نیوٹریشن سنٹر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور یونیسیف کے درمیان شراکت داری پر بات چیت کی گئی، جس میں بالخصوص خواتین اور بچوں کو متوازن غذا کی فراہمی، غذائیت کی کمی اور بہتر نتائج کے حصول پر زور دیا گیا۔ نجمہ ایوب نے کہا کہ بچے کو مناسب غذائیت فراہم کرنا اس کی بقا، صحت اور نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں بچوں میں قد کی کم نشوونما اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دورے کا بنیادی مقصد ایک منظم مشترکہ تعاون کا فریم ورک تشکیل دینا ہے جس کے تحت دونوں ادارے بچوں کی اضافی غذا، صحت عامہ، سماجی ترقی، ماں اور بچے کی صحت، بچیوں کی تعلیم، گرل گائیڈ پروگرامز اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کر سکیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد صحت عامہ اور معاشرتی بہبود کے فروغ کے لیے اپنی علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف کے ساتھ تعاون سے غذائی قلت کے خاتمے، ماں اور بچے کی صحت کی سہولیات میں بہتری، بچیوں کی تعلیم اور گرل گائیڈ پروگرامز کے فروغ کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی غذائی مسائل کے حل کے لیے تحقیق پر مبنی اقدامات کو فروغ دینے اور خطے کی آبادی کے لیے پائیدار ترقی کے منصوبوں میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ ڈاکٹر معظم رفیق نے کہا کہ پاک کوریا نیوٹریشن سنٹر اپنی تحقیقی سہولیات اور غذائیت، خوراک کی تقویت اور بچوں کی اضافی غذا کے شعبوں میں تکنیکی مہارت کے ذریعے مجوزہ تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے پائیدار غذائی اقدامات اور عملی حل کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر بینش اسرار نے کہا کہ غذائی قلت محض غذائیت کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت عامہ کا ایک بڑا چیلنج ہے جو بچوں کی جسمانی نشوونما، ذہنی صلاحیتوں اور طویل مدتی صحت و بہبود کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائیت کی کمی سے نمٹنے کے لیے غذائی تعلیم، ماں اور بچے کی صحت، غذائی تحفظ اور کمیونٹی کی سطح پر اقدامات پر مشتمل مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔








