نئے بجلی چارجنگ فریم ورک کے جائزہ کیلئے سیمینار کا انعقاد، مختلف تجاویز پیش کی گئیں

قومی بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام پر عائد استعمال نظام چارجز کے حالیہ تعین کے ریگولیٹری اور تجارتی اثرات کا جائزہ لینے کے لئے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) اور پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن (پی آر ای سی) کے اشتراک سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ یہ چارجز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مقرر کئے ہیں

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):قومی بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام پر عائد استعمال نظام چارجز کے حالیہ تعین کے ریگولیٹری اور تجارتی اثرات کا جائزہ لینے کے لئے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) اور پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن (پی آر ای سی) کے اشتراک سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ یہ چارجز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مقرر کئے ہیں اور انہی کی بنیاد پر پاکستان کا مسابقتی دوطرفہ بجلی معاہداتی بازار کام کرے گا۔نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر اور خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو افسر محمد ایوب نے کہا کہ نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق استعمال نظام چارجز کے اجزاء کا تعین کئی سالوں پر محیط بجلی کے ضیاع کی جانچ پڑتال کے مطالعات کی بنیاد پر ہونا چاہئے کیونکہ ترسیلی لائنوں میں نقصانات اور آلات کی کارکردگی وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیپرا کو چاہئے کہ نئی ترسیلی لائنوں سے متعلق چارجز حتمی شکل دینے سے پہلے کم از کم 10 سالہ نقصانات کی جانچ کا جائزہ لازمی قرار دے۔ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے انرجی یونٹ کے سربراہ انجینئر عبیدالرحمٰن ضیا نے کہا کہ اس نشست کا مقصد نیپرا کے حالیہ اہم ترین فیصلوں میں سے ایک کا جائزہ لینا اور بجلی کے بازار میں آزادانہ مسابقت متعارف کرانے والی اصلاحات کے بعد سامنے آنے والی کمزوریوں پر بھی غور کرنا ہے ۔آلٹرنیٹ ڈویلپمنٹ سروسز (اے ڈی ایس) کے انرجی ٹرانزیشن افسر محمد عثمان بن احمد نے استعمال نظام چارجز کے مختلف اجزاء کی تفصیلی تکنیکی وضاحت پیش کی۔ انہوں نے ان تمام اجزاء کے صنعتی صارفین پر مجموعی اثرات بھی بیان کئے۔پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن کی رمشا پنہور نے کہا کہ استعمال نظام چارجز کے تعین کا عمل ابھی جاری ہے اور ان چارجز کو فی الحال حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے انفرادی اجزا کی تفصیلی اور شفاف وضاحت کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس پورے فریم ورک کےلئے ایک مستقل اور طویل مدتی منصوبہ واضح طور پر تمام متعلقہ فریقوں کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی انرجی ایڈوائزری کمیٹی اور کراچی اٹلس انڈسٹریز ٹریڈ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہوئے ریحان جاوید نے کہا کہ متعلقہ فریقوں کو یہ واضح طور پر بتایا جانا چاہئے کہ صارفین سے کون کون سے ٹیکس اور چارجز وصول کئے جا رہے ہیں۔پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے حسنات خان نےکہا کہ اخراجات ان اداروں پر عائد ہونے چاہییں جو بجلی پیدا اور فراہم کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیٹری ذخیرے اور قابل تجدید توانائی پر مبنی مشترکہ ماڈل صنعتی صارفین کےلئے نئی الگ بجلی پیدا کرنے کی تنصیبات کے مقابلے میں زیادہ قابل عمل تجارتی متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔گفتگو کے دوسرے مرحلے میں مشہود عرفی نے کہا کہ دوسرے ممالک کے مسابقتی بجلی بازاروں کی صرف ظاہری خصوصیات اپنانے کے بجائے پہلے بنیادی گرڈ صلاحیت کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ایس ڈی پی آئی کے محمد عمر کا کہنا تھا کہ یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ استعمال نظام چارجز اور سی ٹی بی سی ایم کے اثرات تمام صارفین پر یکساں ہوں گے۔انہوں نے تجویز دی کہ اس منتقلی کےلئے تقریباً 10 سالہ مرحلہ وار منصوبہ بنایا جائے۔