اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت، چین کشیدگی میں اضافے کا ذمہ دار، بھارت کا اپنا جارحانہ رویہ اور ہندوتوا سوچ ہے۔یہ بات انہوں نے بدھ کو وزارت خارجہ میں مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کے 13ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے …
بھارت، چین کشیدگی میں اضافے کا ذمہ دار، بھارت کا اپنا جارحانہ رویہ اور ہندوتوا سوچ ہے،پاکستان، خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے،بھارت کی ہندوتوا پالیسیوں نے پورے خطے کے امن و امان کو داؤ پر لگا دیا ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کے 13ویں اجلاس میں اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جون (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت، چین کشیدگی میں اضافے کا ذمہ دار، بھارت کا اپنا جارحانہ رویہ اور ہندوتوا سوچ ہے۔یہ بات انہوں نے بدھ کو وزارت خارجہ میں مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کے 13ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سابقہ خارجہ سیکریٹریز، سفراء ، ماہرین بین الاقوامی تعلقات سمیت وزارت خارجہ کے سینیئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔بھارت کی ہندوتوا پالیسیوں نے پورے خطے کے امن و امان کو داؤ پر لگا دیا ہے مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت اور چین کے مابین کشیدگی میں اضافے کا ذمہ دار، بھارت کا اپنا جارحانہ رویہ اور ہندتوا سوچ ہے۔بھارت نے چین کی طرف سے مذاکرات کے ذریعے معاملات کے حل کی تجویز کو پس پشت ڈالتے ہوئے متنازعہ علاقے میں تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا۔بھارت کی جنونیت کے باعث،بھارت چین سرحدی تنازعہ، خونی تصادم میں تبدیل ہوا اور بھارت کے افسران سمیت 20 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آج جب دنیا کرونا جیسی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے میں مصروف ہے، ہندوستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے 80 لاکھ نہتے مظلوم کشمیریوں کو بدستور استبداد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے لاین آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے ـ جن میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے ہندوستان کا یہ جارحانہ رویہ عالمی برادری کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اجلاسکے دوران افغان امن عمل ،خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال سمیت اہم خارجہ پالیسی امور پر، مشاورت کی گئی۔ وزیر خارجہ نے، خارجہ پالیسی ترجیحات کے حوالے سے مشاورتی کونسل کے ممبران کی طرف سے دی جانے والی، گراں قدر تجاویز پر، ان کا شکریہ ادا کیا۔








