اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بلوچستان لبریشن آرمی کو سمگلروں، جرائم پیشہ عناصر کا ملٹری ونگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کا جواب ریاست بھرپور انداز میں دے گی، فساد فی الارض کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، جہاں بھی خلفشار ہے افواج اور سکیورٹی فورسز بھرپور مقابلہ کر …
بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کا جواب ریاست بھرپور انداز میں دے گی، خواجہ محمد آصف

مزید خبریں
اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بلوچستان لبریشن آرمی کو سمگلروں، جرائم پیشہ عناصر کا ملٹری ونگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کا جواب ریاست بھرپور انداز میں دے گی، فساد فی الارض کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، جہاں بھی خلفشار ہے افواج اور سکیورٹی فورسز بھرپور مقابلہ کر رہے ہیں، پارلیمنٹ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انکے پیچھے کھڑی ہو جائے، شہدا کے جنازوں میں نہ جانے والے بھی ریاست کے خلاف کھڑے تصور ہوں گے، مرنے والے دہشت گردوں سے جدید غیرملکی اسلحہ برآمد ہوا، کون یہ اسلحہ فراہم کر رہا ہے یا سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ وہ پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ان لوگوں کا قوم پرست، سیاسی یا حقوق کی جنگ کا خول اتر گیا ہے، یہ سارے لوگ جرائم پیشہ دنیا میں منتقل ہو گئے ہیں، یہ اپنے کاروبار کے نقصان کو پورا کرنے کے لئے تحریک چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے اجازت نامے پر 40 روپے کا پٹرول (تیل) لے کر یہ نیٹ ورک آف کرپشن 200 روپے لیٹر فروخت کرکے 4 ارب روپے کا یومیہ منافع کما رہا ہے، اس کو روکا گیا ہے، اسی لئے ان لوگوں نے امن و امان خراب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن آرمی کے نام پر جرائم پیشہ عناصر سمگلنگ کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ مختلف حکومتوں کے دوران سرکاری وسائل سے ڈویلپمنٹ کی گئی
، اس وقت بھی ایک ٹریلین روپے پی ایس ڈی پی سے دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹوں کے دوران 177 دہشت گرد مارے گئے، 10 پولیس، 6 ایف سی، ایک لیوی اہلکار شہید ہوا جبکہ گوادر میں 33 شہری شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند دہائیاں پہلے شاید یہ سچائی تھی لیکن وہ بیانیہ آج بھی دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر اٹھائے ہوئے ہیں، بلوچستان میں 40 فیصد بلوچ ہیں، 34 فیصد پشتون، 13 فیصد براہوی اور 4 فیصد دیگر ہیں۔ ایک بیانیہ بنایا گیا کہ کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ بلوچ ہیں جن کو حقوق نہیں دیئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی وڈیرہ ازم اور جاگیرداری رہی لیکن 50 کی دہائی میں وہ بھی ختم ہو گیا۔ 1947ء میں 114 سکول تھے، آج 15 ہزار 96، اس وقت یونیورسٹیاں 12، میڈیکل کالج 5 ہیں، 145 دیگر کالجز، کیڈٹ کالجز 13، ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ 321 ہیں، ہسپتال 13، ٹیچنگ ہسپتال 18، ڈی ایچ کیو 13، بی ایچ یو کثیر تعداد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر جگہ کی طرح بلوچستان میں بھی کرپشن سے منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی شیئر 933 بلین روپے ہے، فی کس آمدن 69300 روپے ہے، پی ایس ڈی پی شیئر (11.5) 2025-26 کی ریونیو وصولی 124 بلین روپے ہے وہ کہاں جاتے ہیں ، ٹرانزٹ ٹریڈ کا سامان مارکیٹوں میں فروخت ہو رہا ہے،
ایرانی تیل کے پمپ کوئٹہ کے وسط میں پائے جاتے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کے باقی حصوں میں سرداری کا نظام ختم لیکن بلوچستان میں پروان چڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پسماندہ رکھنے کی کوشش کرنے والوں کی وجہ سے یہ صورتحال ہے، تربت کو انٹرنیشنل ایئرپورٹ دیا گیا ہے، بلوچستان کے اندر جتنے ایئرپورٹس ہیں وہ کسی اور صوبے میں نہیں ہیں، ایک بیانیہ لاپتہ افراد والا ابھی بنا تھا، ابھی جو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں ان کا نام لاپتہ افراد والی فہرست میں ہے،
کچھ لاپتہ افراد مسقط میں چھپے بیٹھے ہیں، ان کے اہل خانہ ریاست سے الاؤنس لے رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عاناصر نے تمام بیانیے ہائی جیک کر لئے ہیں، اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، کلبھوشن بھی بلوچستان سے پکڑا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو اسلحہ دہشت گردوں کے پاس ہے وہ ہمارے پاس بھی نہیں ہے، یہ اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے، کون سرمایہ کاری کر رہا ہے، امریکی ساخت کا اسلحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعہ میں مزدوروں اور ان کے بچوں کو مارا گیا،
جعفر ایکسپریس میں بھی غریب لوگوں کو مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غیرقانونی تجارت کا ملٹری ونگ بی ایل اے ہے، اس میں مفرور لوگ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فساد فی الارض میں جو شامل ہوں گے اس کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو سکتی، ریاست کا بھی یہی بیانیہ ہے، تشدد کو جب آزادی یا حقوق کی جنگ کا لباس پہناتے ہیں تو یہ قابل قبول نہیں، یہ حقیقت نہیں بلکہ ایک خول ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عناصر خون خرابہ کرنے کے بعد بھاگ جاتے ہیں، آنے والے وقت میں ان لوگوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، خواتین، بچوں، عام شہریوں کونشانہ بنایا جا رہا ہے، اسی طرح ریاست طاقت کے ساتھ جواب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی خلفشار ہے ہماری افواج اور سکیورٹی فورسز جانیں قربان کر رہی ہیں، ہماری پارلیمنٹ اختلافات سے بالاتر ہو کر ان کے پیچھے کھڑی ہو جائے، جو شہداء کے جنازہ میں شامل نہ ہوں وہ ریاست کے خلاف کھڑے تصور ہوں گے۔







