بھارتی سینئر سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی،8 ستمبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے ایل اوسی کے بیدوری سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا

اسلام آباد ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے 8 ستمبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کے بیدوری سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں تین بیگناہ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سینئر بھارتی …

اسلام آباد ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے 8 ستمبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کے بیدوری سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں تین بیگناہ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا اور کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بھارتی سفارتکار کا بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت و وقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔بھارت نے رواں سال کے دوران 2199 مرتبہ بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں،جس میں 17 بیگناہ شہر ی شہید اور 171 زخمی ہوئے ہیں۔بھارتی سفارتکار کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافہ سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ دوہزار تین کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی) کو اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔