اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) بھارتی قائم مقام ہائی کمشنر گوراو اہلووالیا کو بدھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے 26 فروری کو لائن آف کنٹرول پر نکیال اور کھوئی رٹہ سیکٹرز میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے سیز فائر کی بلااشتعال خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی جن کے نتیجہ میں چار بےگناہ شہریوں موتیا بی بی، زرینہ، گلفراز اور شہناز کی شہادت ہوئی جبکہ 6 …
بھارتی قائم مقام ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے کنٹرول لائن کے نکیال اور کھوئی رٹہ سیکٹرز میں سیز فائر کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) بھارتی قائم مقام ہائی کمشنر گوراو اہلووالیا کو بدھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے 26 فروری کو لائن آف کنٹرول پر نکیال اور کھوئی رٹہ سیکٹرز میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے سیز فائر کی بلااشتعال خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی جن کے نتیجہ میں چار بےگناہ شہریوں موتیا بی بی، زرینہ، گلفراز اور شہناز کی شہادت ہوئی جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاءو سارک) ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی قائم مقام ہائی کمشنر کو طلب کیا اور سیز فائر کی بلااشتعال خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر بھارتی افواج بھاری اسلحہ کے ساتھ مسلسل شہری آبادی کے علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے، بھارت کی جانب سے 2017ء(جس کے دوران بھارتی افواج نے سیز فائر کی 1970خلاف ورزیاں کیں) سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق شہری آبادی کے علاقوں کا دانستہ ہدف بنانا درحقیقت قابل افسوس اور انسانی وقار، بین الاقوامی بنیادی حقوق اور انسانی ہمدردی قوانین کے منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اور تزویراتی غلط اندازے کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003ءکے سیز فائر معاہدہ کا احترام کرے، اس واقعہ اور سیز فائر کی دیگر خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے اور بھارتی افواج کو لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر حقیقی معنی میں سیز فائر کا احترام کرنے کی ہدایت کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارتی کی طرف سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن برائے بھارت و پاکستان (یو این ایم او جی آئی پی ) کو مینڈیٹ کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔








