بھارت اقلیتوں کے حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے، پاکستانی مندوب کا جنرل اسمبلی میں بھارتی مندوب کو جواب 

اقوام متحدہ۔22جنوری (اے پی پی):پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں ہندو مندر میں آگ لگانے کے حالیہ واقعہ سےمتعلق بھارت کے غیرتصدیق شدہ دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق پر توجہ دے۔ پاکستانی مندوب ذالقرنین چھینا نے بھارتی مندوب اشیش شرما کے دعوی جس میں انہوں نے کہا کہ ضلع …

اقوام متحدہ۔22جنوری (اے پی پی):پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں ہندو مندر میں آگ لگانے کے حالیہ واقعہ سےمتعلق بھارت کے غیرتصدیق شدہ دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق پر توجہ دے۔ پاکستانی مندوب ذالقرنین چھینا نے بھارتی مندوب اشیش شرما کے دعوی جس میں انہوں نے کہا کہ ضلع کرک کے حکام مندر میں آگ لگنے کے واقعہ کو دیکھتے رہے اور کچھ نہیں کیا،پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گزشتہ روز جواب دینے کے اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ بھارت نے دوسرے ملک میں اقلیتوں کے حقوق پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ بھارت خوداقلیتوں کے حقوق کی سب سے زیادہ اور مستقل خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں واضح فرق کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کرک میں مندر میں آگ لگانے والوں کو فوری گرفتار کیا گیا ، مندر کی مرمت کے احکامات جاری کیے گئے ، اعلی سطح پر عدلیہ اور سیاسی قیادت نے اس واقعہ کا نوٹس لیا اور مذمت کی لیکن بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے کھلم کھلا اقدامات کیے جاتے ہیں اور وہاں اقلیتیں ریاستی جبر میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بھارتی حکومت کے متنازع شہریت ، بھارتی شہریوں کی قومی رجسٹر (این آر سی)، 2002 میں گجرات میں قتل عام ، مسلم مخالف 2020 دہلی پوگرام، 1992 میں بابری مسجد کو شہید کرنے اور اس کے مجرموں کو بھارتی عدالت کی جانب سے بری کرنے ، کورونا وائرس کے پھیلائو کے لیے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانا ، لوو جہاد اورگائو رکھشک اور مغربی بنگال کے مسلمانوں کو لکڑی کے کیڑےقرار دینا اور بھارت کےزیرتسلط مقبوضہ جموں کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے حقوق کی منظم خلاف ورزیوں اور تشدد کی مثالیں بھری پڑی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قیادت نے فروری 2020 میں دہلی قتل عام کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے لانا تو درکنار اس کی مذمت تک نہیں کی۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور ا متیازی سلوک کے باعث بھارت انسانی حقوق کے مسئلے پر دعویداری حیثیت کی پوزیشن میں نہیں ہے لہذا بھارت کو دوسروں پر الزام تراشی کی بجائے اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق پر توجہ دینی چاہیے۔