سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے ریسرچ فیلو اور پانی و زراعت پالیسی کے ماہر ڈاکٹر کاشف مجید سالک نے کہا ہے کہ بھارت انڈس واٹر ٹریٹی (آئی ڈبلیو ٹی) کے تحت پاکستان کے پانی کے حصے کو یک طرفہ طور پر روک یا موڑ نہیں سکتا اور پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے سنگین نتائج علاقائی امن اور استحکام کے لیے …
بھارت انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت پاکستان کے پانی کے حصے کو یک طرفہ طور پر روک یا موڑ نہیں سکتا ۔ڈاکٹر کاشف مجید سالک

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جون (اے پی پی):سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے ریسرچ فیلو اور پانی و زراعت پالیسی کے ماہر ڈاکٹر کاشف مجید سالک نے کہا ہے کہ بھارت انڈس واٹر ٹریٹی (آئی ڈبلیو ٹی) کے تحت پاکستان کے پانی کے حصے کو یک طرفہ طور پر روک یا موڑ نہیں سکتا اور پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے سنگین نتائج علاقائی امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر ہائیڈرو پاور پراجیکٹس اور تجویز کردہ ٹنل انفراسٹرکچر پر کام کر رہا ہے، لیکن پاکستان کے مختص پانی کی کسی بھی قسم کی موڑنے کی کارروائی انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت جائز نہیں ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے پانی کو روکنا یا موڑنا سنگین خلاف ورزی ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت بھارت کو مغربی دریاؤں انڈس، جہلم اور چناب پر محدود استعمال کی اجازت ہے، جو ہائیڈرو پاور جنریشن اور محدود آبپاشی کے لیے ہے۔ تاہم، وہ قانونی طور پر ان دریاؤں کو اس طرح نہیں موڑ سکتا جو پاکستان کو اس کے مختص حصے سے محروم کر دے۔ انہوں نے آئی ڈبلیو ٹی کو دنیا کے سب سے کامیاب اور قانونی طور پر پابند پانی کی تقسیم کے معاہدوں میں سے ایک قرار دیا، جسے یک طرفہ طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے تحت قانونی اور اخلاقی دونوں حیثیت حاصل ہے اور کوئی بھی یک طرفہ خلاف ورزی سنگین بین الاقوامی جانچ کا باعث بنے گی۔
انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ پاکستان پانی سے خالی ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے پاس اب بھی بڑی مقدار میں گلیشیر ریزرو، زیرِ زمین پانی کے ذخائر اور دریائوں کے بہاؤ موجود ہیں جو بہتر مینجمنٹ کی صورت میں مستقبل کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر سالک نے زور دیا کہ پاکستان کو پانی کے شعبے میں اصلاحات کو ترجیح دینی چاہیے، جن میں واٹر گورننس کو مضبوط کرنا، سٹوریج انفراسٹرکچر کو وسعت دینا اور آبپاشی نیٹ ورک کی کارکردگی بہتر بنانا شامل ہے۔ انہوں نے ڈیموں، ریزروائرز، نہروں کی بحالی اور جدید واٹر مینجمنٹ سسٹمز میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نقصانات کم ہوں اور تقسیم بہتر ہو ۔
انہوں نے قابلِ اعتماد ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا اور مانیٹرنگ سسٹمز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی، معیاری تحقیق اور مؤثر بین الاقوامی مذاکرات درست اور شفاف معلومات پر منحصر ہیں۔زیرِ زمین پانی کے زیادہ نکاسی، گھریلو پانی کے غیر موثر استعمال اور پانی کے تحفظ کے بارے میں عوامی آگاہی کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر سالک نے حکومتوں اور شہریوں دونوں سے اپیل کی کہ وہ پانی کے تحفظ کو قومی ذمہ داری سمجھیں۔
انہوں نے مزید تحقیق، موسمیاتی موافقت، پانی کے سٹوریج انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی اصلاحات میں بڑھے ہوئے سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی طویل مدتی پانی کی لچک کو بڑھایا جا سکے۔پاکستان کے سامنے چیلنج یہ نہیں ہے کہ پانی موجود ہے یا نہیں،مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم اس پانی کا جو ہمارے پاس ہے، اسے مؤثر طریقے سے مینج کر سکتے ہیں۔\932








