بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، خیبر پختونخوا میں واٹر پارکس متاثر ہونے کا خدشہ

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے زندگی کے مختلف شعبوں کو خطرات درپیش ہیں۔ ان خلاف ورزیوں کے باعث خیبر پختونخوا میں واٹر پارکس کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ ملک بھر سے کثیر تعداد میں لوگ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران خیبر پختونخوا کی سرسبز و شاداب وادیوں کی سیر کے لیے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں تاہم سندھ …

پشاور۔ 28 جون (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے زندگی کے مختلف شعبوں کو خطرات درپیش ہیں۔ ان خلاف ورزیوں کے باعث خیبر پختونخوا میں واٹر پارکس کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ ملک بھر سے کثیر تعداد میں لوگ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران خیبر پختونخوا کی سرسبز و شاداب وادیوں کی سیر کے لیے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں تاہم سندھ طاس معاہدے کے گرد غیر یقینی صورتحال نے سیاحوں، ٹور آپریٹرز اور ان مقامی آبادیوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا ہے جن کا روزگار بڑے پیمانے پر دریاؤں، جھیلوں اور واٹر پارکس پر منحصر ہے۔ ماہرین نے اس معاہدے کے ضامن عالمی بینک پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو 1960 کے معاہدے کی ذمہ داریوں کو برقرار رکھنے پر مجبور کرے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ پانی کے بہاؤ پر طویل غیر یقینی صورتحال پاکستان کے زیریں علاقوں کےلیے آبی سیاحت، ماحولیاتی، اقتصادی اور سماجی تحفظ کے حوالے سے منفی نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے ہزاروں خاندانوں کےلیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں ہے بلکہ سیاحت کی بنیاد، روزگار کا ذریعہ اور ایڈونچر اسپورٹس کی کشش ہے جو پورے پاکستان سے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔

پریوں کی کہانی سے منسوب جھیل سیف الملوک کے کرسٹل جیسے شفاف نیلے پانیوں سے لے کر پرسکون لالوسر جھیل اور خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف واٹر پارکس تک یہ خطہ پاکستان میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے آبی سیاحت کے مقامات میں سے ایک بن چکا ہے تاہم سیاحت سے وابستہ افراد کو خدشہ ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی غیر قانونی معطلی کے باعث دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی طویل رکاوٹ سے یہ آبی مقامات متاثر ہو سکتے ہیں جس کے مقامی کاروبار، ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ سروسز اور ایڈونچر ٹورازم پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔خاندان کے ساتھ ناران۔ کاغان کے ایک ہفتے کی سیر کےلیے پیکنگ کرتے ہوئے پشاور سے تعلق رکھنے والی ماہرِ اقتصادیات سنبل ریاض کا کہنا ہے کہ اس خطے کے سالانہ دورے ان کے بچپن سے ہی ایک عزیز خاندانی روایت بن چکے ہیں۔قومی خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر موسم گرما میں وہ اور ان کا خاندان ناران کاغان کا سفر کرتے ہیں تاکہ اس کی دلکش جھیلوں، واٹر پارکس اور اونچے پہاڑوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ اور کنہار کی بہتی ہوئی ندیوں کے کنارے بیٹھنے، آبشاروں کی آواز سننے اور پہاڑوں کی تازہ ہوا میں سانس لینے میں کچھ جادوئی سا اثر ہے۔ یہ شاندار مقامات خاندانوں کو ایسی یادیں دیتے ہیں جو زندگی بھر قائم رہتی ہیں۔سنبل ریاض نے کہا کہ بالائی وادی کاغان میں جھیل سیف الملوک اپنی بیضوی شکل اور ملکہ پربت سے نکلنے والے کرسٹل جیسے شفاف پانی کی وجہ سے ان کے پسندیدہ مقامات میں سے ایک ہے۔دیودار کے بلند و بالا جنگلات اور برف پوش چوٹیوں سے گھرا ہوا یہ پورا سفر ایک مہم جوئی ہے۔ ہر موڑ ایک نیا پوسٹ کارڈ جیسا نظارہ پیش کرتا ہے۔ ناران کاغان کا کئی بار دورہ کرنے کے بعد انہوں نے اس کی آنسو جھیل کی بھی تعریف کی جو سیاحوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاندانوں کے لیے پکنک کا ایک بہترین مقام ہے۔ پرسکون ماحول، ٹھنڈی ہوا اور قدرتی خوبصورتی ملک بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔

ہری پور میں خانپور ڈیم واٹر ٹورازم کے لیے مشہور ہے اور اگر فاشسٹ مودی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایسی سہولیات متاثر ہوں گی۔ اسی طرح اگر معاہدے کی غیر قانونی معطلی برقرار رہتی ہے تو دریائے سندھ کے کنارے نوشہرہ میں کنڈ پارک میں واٹر اسپورٹس شدید متاثر ہوں گے۔ یہ ڈیم، جھیلیں اور واٹر پارکس آسانی سے قابلِ رسائی ہیں اور سیر و تفریح اور ایڈونچر ٹورازم کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔ قریب ہی موجود ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس سیاحوں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے یہ واٹر پارکس وہ چھپے ہوئے موتی ہیں جو گرمی کے تپتے مہینوں میں فطرت سے محبت کرنے والوں کو اپنی طرف راغب کرتے رہتے ہیں۔ سوات روانگی سے قبل سنبل ریاض نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے جاری رہنے کی صورت میں ان قدرتی مقامات کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ دریا، واٹر پارکس، جھیلیں اور آبشار اپنا قدرتی بہاؤ کھو بیٹھیں تو خیبر پختونخوا میں سیاحت کو نقصان پہنچے گا اور لاکھوں لوگ بھوک اور افلاس کے راج کے ساتھ بے روزگار ہو جائیں گے۔ جب پانی نہیں ہوگا، تو کوئی سیاحت اور روزگار نہیں ہوگا ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہزاروں خاندان ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، سروسز، بوٹنگ، گائیڈنگ، دستکاریوں اور ایڈونچر ٹورازم کے ذریعے اپنا روزگار کماتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بالائی خیبر پختونخوا میں سیاحوں کی آمد میں کمی سے مقامی روزگار اور گھریلو آمدنی براہ راست متاثر ہوگی جس سے بھارت کے غیر قانونی اقدام کی وجہ سے انسانی حقوق کا مسئلہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ماحولیاتی مبصرین کا موقف ہے کہ شمالی خیبر پختونخوا سے بہنے والے دریا نہ صرف سیاحت بلکہ حیاتیاتی تنوع، میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام اور پینے کے پانی کی فراہمی کو بھی سہارا دیتے ہیں۔

صحت مند دریا مچھلیوں کی آبادی، جنگلات اور جنگلی حیات کو برقرار رکھتے ہیں جبکہ رافٹنگ، بوٹنگ، ماہی گیری اور کیمپنگ جیسی تفریحی سرگرمیوں کو سہارا دیتے ہیں جو مقامی سیاحوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ مانسہرہ، بٹگرام، شانگلہ، کوہستان اور ملحقہ اضلاع کے مقامی لوگوں نے گزشتہ دہائی کے دوران سیاحتی بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے جس سے مقامی اقتصادی ترقی کےلیے ماحولیاتی استحکام روزبروز اہم ہو گیا ہے۔سینیئر وکیل ملک اشفاق نے کہا کہ مشترکہ دریاؤں کو منظم کرنے والے بین الاقوامی معاہدوں کو قائم شدہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے کام جاری رکھنا چاہیے۔انہوں نے اے پی پی کو بتایا کہ سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں کے تنازعات اور جنگوں کے باوجود برقرار رہا کیونکہ اس نے ایسے تکنیکی ادارے قائم کیے جو تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی بینک اور دیگر متعلقہ اداروں کا مسلسل مذاکرات اور معاہدے کی ذمہ داریوں کی پاسداری کی حوصلہ افزائی کرنے میں ایک اہم کردار ہے۔ملک اشفاق کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں پر اعتماد کا انحصار قائم شدہ قانونی فریم ورک کے احترام پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو برقرار رکھنے کے حق میں ثالثی کی بین الاقوامی عدالت کے تاریخی فیصلے کے بعد بھارت تمام قانونی جواز کھو چکا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ ہلالی نے کہا کہ پانی کے تحفظ کے براہ راست اثرات واٹر ٹورازم، زراعت، خوراک کی پیداوار، ماحولیاتی استحکام اور توانائی کے شعبوں پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کی معیشت اور کروڑوں لوگوں کے روزگار کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرحد پار پانی کے انتظام پر غیر یقینی صورتحال، اگر حل نہ کی گئی، تو کاشتکاری اور پن بجلی سے لے کر ایکو ٹورازم تک کے شعبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان پانی سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کےلیے مذاکرات، بین الاقوامی قانون اور پرامن روابط ناگزیر ہیںسیاحت کے حکام کا تخمینہ ہے کہ ہر موسم گرما میں ہزاروں سیاح خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کی وادیوں کا سفر کرتے ہیں جس سے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ آپریٹرز، کیمپ سائٹ کے مالکان، گائیڈز، فوٹوگرافرز اور مقامی کاریگروں کو سہارا ملتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے بہت سے خاندانوں کےلیے سیاحت کا موسم ایسی آمدنی فراہم کرتا ہے جو ان کے خاندانوں کو سال بھر وقار کے ساتھ جینے میں مدد دیتی ہے۔ جب بچے کاغان کی برفیلی ندیوں میں کھیلتے ہیں اور خاندان جھیل سیف الملوک میں کشتی رانی کا لطف اٹھاتے ہیں، مقامی لوگ امید کرتے ہیں کہ پانی کا تسلسل ان آبی سہولیات اور مناظر کی خوبصورتی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ خواہ اسے آنسو جھیل کے ساحلوں سے سراہا جائے، سیف الملوک اور لالوسر جھیلوں کے زمرد جیسے پانیوں سے یا گرجتی ہوئی آبشاروں سے، اس خطے کے آبی راستے خیبر پختونخوا کی سیاحتی شناخت کی بنیادی خصوصیت بنے ہوئے ہیں۔

سنبل ریاض جیسے سیاحوں کےلیے یہ کشش بالکل سادہ ہے کہ لوگ یہاں اس لیے آتے ہیں کیونکہ پانی کے بہاؤ کی وجہ سے فطرت زندہ ہے۔انہوں نے عالمی بینک پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھے اور آر ایس ایس کی حمایت یافتہ ہندوتوا حکومت کے خلاف کارروائی کرے جو جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مغربی دریاؤں کے تحفظ کا مطلب خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے لاکھوں لوگوں کے روزگار اور مستقبل کا تحفظ ہے۔