چنائی۔3مارچ (اے پی پی):دسواں آئی سی سی ٹی ٹونٹی عالمی کپ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور آسٹریلیا کے لیجنڈ فاسٹ باؤلر گلین میگراتھ نے پیش گوئی کی ہے کہ فائنل میں جنوبی افریقا اور بھارت کا آمنا سامنا ہو سکتا ہے۔ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر آف کوچنگ میگراتھ نے چنائی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس ٹورنامنٹ کی …
بھارت انگلینڈ کو آسان حریف نہ سمجھے، گلین میگراتھ

مزید خبریں
چنائی۔3مارچ (اے پی پی):دسواں آئی سی سی ٹی ٹونٹی عالمی کپ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور آسٹریلیا کے لیجنڈ فاسٹ باؤلر گلین میگراتھ نے پیش گوئی کی ہے کہ فائنل میں جنوبی افریقا اور بھارت کا آمنا سامنا ہو سکتا ہے۔ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر آف کوچنگ میگراتھ نے چنائی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس ٹورنامنٹ کی دو مضبوط ترین ٹیمیں جنوبی افریقا اور بھارت ہیں۔
ن کے مطابق جنوبی افریقہ اب تک ایونٹ کی سب سے متوازن اور مؤثر ٹیم ثابت ہوئی ہے، تاہم بھارت کی ٹیم بھی غیر معمولی کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔گلین میگراتھ کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں مضبوط ہے اور ٹیم میں کوئی نمایاں کمزوری دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل جنوبی افریقہ نے واضح کیا تھا کہ وہ ٹی ٹونٹی طرز کی کرکٹ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کا مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہوگا۔ گلین میگراتھ کے مطابق نیوزی لینڈ کسی بھی ٹیم کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے، لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف اکثر اسے مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور پروٹیز کو نفسیاتی برتری حاصل ہے۔دوسری جانب انگلینڈ اور بھارت کے سیمی فائنل کے حوالے سے گلین میگراتھ نے خبردار کیا کہ بھارت کو انگلینڈ کو ہرگز آسان نہیں لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ ایک خطرناک ٹیم ہے اور اگر وہ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کھیلے تو کسی بھی حریف ٹیم کو شکست دے سکتی ہے۔
میگراتھ نے نشاندہی کی کہ ورلڈ کپ میں انگلینڈ ٹیم کی کارکردگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے اور بعض میچوں میں اسے سخت مقابلہ کرنا پڑا، تاہم مشکل حالات میں کامیابی حاصل کرنا بھی ٹیم کے اعتماد میں اضافہ کر سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت اسی تسلسل کے ساتھ کھیلے جیسا وہ پورے ٹورنامنٹ میں کھیلتا آیا ہے تو اسے برتری حاصل ہوگی، لیکن معمولی سی غفلت بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔








