اقوام متحدہ۔3جولائی (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بھارت کے ’’غیر مہذب‘‘ سلوک کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور بھارت سے ملک میں ’’خطرناک‘‘ اسلامو فوبک رجحان کو ختم کرنے کامطالبہ کیا ہے،جس کی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کی طرف سے وکالت کی گئی ہے۔ پاکستانی مندوب رابعہ اعجاز نے اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب سے سوال کیا …
بھارت اپنے ہاں اسلامو فوبیا کےخطرناک رجحان کی روک تھام کے لئے اقدامات کرے، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔3جولائی (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بھارت کے ’’غیر مہذب‘‘ سلوک کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور بھارت سے ملک میں ’’خطرناک‘‘ اسلامو فوبک رجحان کو ختم کرنے کامطالبہ کیا ہے،جس کی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کی طرف سے وکالت کی گئی ہے۔ پاکستانی مندوب رابعہ اعجاز نے اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب سے سوال کیا کہ کیا بھارت کا نمائندہ حالیہ واقعے کا جواز پیش کر سکتا ہے جہاں ایک بی جے پی رہنما نے کھلم کھلا2 لاکھ مسلمانوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی، اور یہ بھی الزام عائد کیا کہ یہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے ۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کی سیکنڈ سیکرٹری رابعہ اعجاز نے 193 رکنی جنرل اسمبلی میں رسپانسیبلٹی ٹو پروٹیکٹ یعنی ’’تحفظ کی ذمہ داری‘‘ (آر 2 پی) پر بحث کے دوران بھارتی مندوب کو جواب دینے کے اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سیاسی فائدے کے لیے بھارتی قیادت کی طرف سے مسلم مخالف بیان بازی کا بے دریغ استعمال دیکھا، جس میں ان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ایک حالیہ انتخابی تقریر کے دوران مسلمانوں کو ’’درانداز ‘‘ کہا جو بھارت میں اقلیت ہیں۔ اقوام متحدہ میں بھارتی مشن میں بھارتی نمائندہ کاجل بھٹ نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے یہ الزام پیر کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم کی اس تقریر کے جواب میں لگا یا جس میں پاکستانی سفیر نے بھارت کے علاوہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ہونے والے مظالم اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا۔ پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ مسلمانوں کو منظم، سرکاری سرپرستی میں امتیازی سلوک، تشدد اور جبر کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتی مشینری اس ظلم میں شریک ہے کیونکہ گائورکھشک اور آر ایس ایس کے غنڈوں کے ذریعہ ہجوم بنا کر مسلمانوں پر تشدد کرکے انہیں قتل کرنے کی سزا نہیں ملتی۔
پاکستانی مندوب رابعہ اعجاز نے بھارتی مندوب کے الزامات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت اقلیتوں کے خلاف ان کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے اور فوری اقدامات کرتے ہوئے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لاتی ہے ۔ اس کے بالکل برعکس بھارتی قیادت فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھانے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بھارتی حکومت نہ صرف اقلیتو ں،خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف ایسے جرائم کے ارتکاب کی حمایت کرتی بلکہ خود سنگین جرائم میں ملوث ہے۔پاکستانی مندوب نے ریمارکس دیئے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے مارچ میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے غیر واضح موقف کے برعکس بھارت میں ان مظالم کو روکنے کے لیے سیاسی عزم کی واضح کمی ہے۔ ہمیں بھارت میں مذہبی، نسلی اور نسلی اقلیتوں ، خواتین اور لڑکیوں ،سول سوسائٹی سمیت انسانی حقوق کے محافظوں اور میڈیا پر مسلسل حملوں کی رپورٹس پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے،جھوٹی معلومات اور من گھڑت ریمارکس کی بجائے اقوام متحدہ کے ماہرین کی طرف سے مسلسل اٹھائے جانے والے خدشات کو بہتر طور پر دور کرنا چاہیے اور اپنے ملک میں اسلامو فوبک کے خطرناک رجحان کو ختم کرنا چاہیے۔پاکستانی مندوب نے 1971 کے واقعات کے حوالے سے بھارتی نمائندے کے حوالے پر کہا کہ یہ نسل کشی کا نہیں بلکہ بھارت کی غیر ملکی جارحیت اور پاکستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے کا معاملہ تھا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ جہاں تک دہشت گردی کی بات ہے یہ بھارت کا دہرا معیار ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا ہے اور دوسروں پر انگلی اٹھاتا ہے جب کہ وہ خود دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی کرتا ہے اورقتل و غارت گری کی عالمی فرنچائز چلا رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے مختلف دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث اپنے شہریوں کوپابندیوں کی فہرست میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پابندیوں کے قوانین کا غلط استعمال کیا۔ انہوں نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنانے کے بھارت کے دعوے کے بارے میں کہا کہ بھارت جانتاہے کہ اس کے 5 اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اقدام کو جموں و کشمیر کے عوام کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ نہ تو آئینی ہے اور نہ ہی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہمیشہ سے سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ رہا ہے اور رہے گا۔
آخر میں پاکستانی مندوب رابعہ اعجاز نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا حق خودارادیت دلا کر ان کے مصائب کو دور کرنے کے لیے کام کرے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور یو این ایس سی کی متعدد قراردادوں میں درج ہے۔








