بھارت جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا، سیدعلی گیلانی

سرینگر ۔ 31 اکتوبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے کو دو حصوںمیں تقسیم کرنے جیسے آمرانہ اقدامات کے ذریعے جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے آج سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارت کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور …

سرینگر ۔ 31 اکتوبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے کو دو حصوںمیں تقسیم کرنے جیسے آمرانہ اقدامات کے ذریعے جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے آج سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارت کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں لیفٹیننٹ گورنرز کی حیثیت سے دو کٹھ پتلی آمروں کو مسلط کرکے بھارت کشمیریوں کواپنے حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد جاری رکھنے سے روکنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت اس طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیری عوام کو محکوم نہیں رکھ سکتا۔ حریت چیئرمین نے کہاکہ حالیہ بھارتی اقدامات کی وجہ سے بھارت کے خلاف کشمیری عوام کی نفرت ، ناراضگی اور مزاحمت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آتش فشاں کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے اور کشمیریوں کا غم وغصہ ایسی شکل اختیار کرسکتا ہے جسے روکنا بھارت کیلئے ممکن نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی طرف سے خاموش احتجاج کو طوفان سے پہلے کی خاموشی سمجھا جانا چاہیے ۔سید علی گیلانی نے کشمیری عوام کو انکی بے مثال قربانیوں پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں بھارتی تسلط سے آزادی کے حصول کیلئے اپنی منصفانہ جدوجہد ثابت قدمی سے جاری رکھنے پر زوردیا۔ادھر وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میںغیر معمولی فوجی محاصرے اور مواصلاتی پابندیوں کے باعث معمولات زندگی آج مسلسل 88ویں روز بھی مفلوج رہے ۔ تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبک سڑکوںپر پبلک ٹرانسپورٹ معطل رہی ۔انڈین ایڈمینسٹریٹو سروس کے افسروںگریش چندرا مرمو اوررادھا کرشنا ماتھورنے جموںوکشمیر اور لداخ کے نئے لیفٹیننٹ گورنر وںکے طور پرحلف اٹھایا۔ جموںوکشمیر کی تقسیم کے بھارت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیلئے آج ضلع کارگل میں مسلسل دوسرے د ن بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ وادی کشمیر کے لوگوں نے بھارت کے اقدام کے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ اس فیصلے سے بھارت نے ان سے انکی شناخت اور خصوصی حیثیت چھین لی۔ انہوںنے اس فیصلے کو غیر قانونی ، غیر اخلاقی ، غیر آئینی اور کشمیریوںکے مفادات کے خلاف قراردیا۔ انہوںنے کہاکہ تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کے حل طلب تنازعات کی فہرست میں موجود ہے اور عالمی ادارے نے اس دیرینہ تنازعے کے حل کیلئے متعدد قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔ حریت رہنماء محمد شفیع لون نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاہے کہ بھارت کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ قتل عام اور دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوںکے ذریعے کشمیریوںکے جذبہ حریت کو کمزور کرسکتا ہے ۔دریں اثناء سرینگر میں باخبر ذرائع نے کہاہے کہ نریندر مودی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت نے جموںوکشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز میں باضابطہ طورپر تقسیم کرنے کے بعد مقبوضہ علاقے میں گجرات جیسے قتل عام کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کیلئے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔انہوںنے کہاکہ گریش چندرا مرمو کی تقرری مودی کے مذموم منصوبے کا حصہ ہے۔ مرمو 2002میں نریندرمودی کی وزارت اعلیٰ کے دوران گجرات کے قتل عام کے موقع پر انکے پرنسپل سیکریٹری تھے ۔ ان کاکہنا تھا کہ مرمو کو اب واضح طورپر مقبوضہ کشمیرمیں قتل عام کا ہدف دیاگیا ہے۔کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ نے نئی دلی میں جاری ایک بیان میں جموںوکشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کو شرمناک قراردیاہے ۔

مزید خبریں