بھارت دہشت گردی کا سرپرست،ہزاروں افراد کو قتل کیا ، سندھ طاس معاہدے میں معطلی کی کوئی شق نہیں ، پاکستان

بھارت دہشت گردی کا سرپرست،ہزاروں افراد کو قتل کیا ، سندھ طاس معاہدے میں معطلی کی کوئی شق نہیں ، پاکستان

اقوام متحدہ۔23جولائی (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کا سرپرست ہے جس نے ہزاروں افراد کو قتل کیا،سندھ طاس معاہدے میں ’’معطل ‘‘ کرنے کی کوئی شق موجود نہیں اس لیے بھارت کا یکطرفہ معطلی کا اقدام غیر قانونی ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکرٹری انصار شاہ نے گزشتہ روز بھارتی سفیر ہریش پرواتھانی کے سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہی،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق بے بنیاد الزامات دراصل پاکستان کے خلاف بھارت کی مبینہ دہشت گردی کی سرپرستی اور مالی معاونت کو چھپانے کی کوشش ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب اس سے قبل قدرتی وسائل کے نظم و نسق سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھارت پر سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرکے پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ اس نوعیت کی معطلی کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے عمومی اصول اس کی حمایت کرتے ہیں، اس اقدام سے پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کے روزگار اور فلاح و بہبود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے کے تناظر میں پیش آیا اس لیے اس سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اس کے جواب میں بھارتی سفیر نے جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ ہونے کا دعوی کیا اور پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کا الزام عائد کیا جس پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکرٹری انصار شاہ نے جواب دینے کے اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں ’’معطل ‘‘ کرنے کی کوئی شق موجود نہیں اس لیے بھارت کا اقدام غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی عدالت بھی اس بات کی توثیق کر چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور موثر، قانونی طور پر لازم اور تنازعے کے تصفیے کا میکانزم مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔

پاکستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکرٹری نے کہا کہ مشترکہ قدرتی وسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ جیسے گروہوں کو بھارت کی مبینہ حمایت حاصل ہے اور ان گروہوں نے پاکستان میں ہزاروں شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بھارت بیرونِ ملک بشمول شمالی امریکا میں مبینہ ماورائے عدالت کارروائیوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے حوالے سے انصار شاہ نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہے اور وہاں کے عوام کو اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ ہے، قابض طاقت کے یکطرفہ یا غیر قانونی اقدامات اس علاقے کی تاریخی، قانونی اور متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، بجائے اس کے کہ وہ ان کی خلاف ورزی یا تسلیم شدہ حقائق سے انکار کرے۔

مزید خبریں