اسلام آباد ۔ 21 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدر مس ماریہ فرنینڈا ایسپینوسا سے ملاقات کے …
بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدر مس ماریہ فرنینڈا ایسپینوسا سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کےلئے پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی، وزارت انسانی حقوق کی سیکرٹری رابطہ جویری آغا اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماو¿ں نے انسانی حقوق کی صورتحال، تحفظ اور فروغ کے مختلف پہلوو¿ں پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کی صدر کو انسانی حقوق کے تحفظ کےلئے حکومت کی جانب سے جاری اقدامات کے بارے میں بتایا اور کہا کہ نئی قانون سازی سمیت پہلے سے موجود قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ یورپ کے برعکس پاکستان میں غیر مسلموں کو اپنے ذاتی قوانین کی اجازت ہے۔







