حکومت نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے میں پرعزم ہے، کلی معیشت کے استحکام کیلئے اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں ،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی برطانیہ کے وزیر مملکت برائے تجارت سے ملاقات میں گفتگو
حکومت نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے میں پرعزم ہے، کلی معیشت کے استحکام کیلئے اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں ،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی برطانیہ کے وزیر مملکت برائے تجارت سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ ، مسابقت کو فروغ دینے اور خدمات کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے حکومت نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے میں پرعزم ہے۔انہوں نے یہ بات لندن میں محکمہ برائے کاروبار و تجارت میں برطانیہ کے وزیر مملکت برائے تجارت انس سرور سے ملاقات میں کہی۔ ملاقات میں برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان اور وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد بھی موجود تھے۔دونوں وزراء نے رواں سال دسمبر میں شروع ہونے والے پاکستان برطانیہ تجارتی مذاکراتی طریقہ کار کے تحت ٹھوس اور قابل عمل نتائج حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارتی حجم پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان سالانہ 2.5 ارب امریکی ڈالر کے موجودہ تجارتی حجم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کو تسلیم کیا کہ اشیاء و خدمات کے شعبوں میں دوطرفہ تجارت کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔دونوں وزراء نے آئی ٹی، فن ٹیک، مینوفیکچرنگ اور پیداواری صنعتوں سمیت مختلف شعبوں میں کاروبار اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور تیز رفتار ترقی کی جانب گامزن ہے، حکومت پاکستان نے کلی معیشت کے استحکام کیلئے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا ہے جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، معاشی نقصانات میں کمی اور اقتصادی استعداد کار میں بہتری کے لیے بھی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ کیا جا سکے، مسابقت کو فروغ دیا جا سکے اور خدمات کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔






