اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):بھار ت میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو شہید کئے جانے کے واقعے کو 29 سال گزرنے کے بعد بھی بھارتی انتہا پسند جماعت بی جے پی کی انتہا پسندی عروج پر ہے جبکہ ان کی ایک رہنما نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے والوں کو سلام پیش کرنا چاہئیے۔ رام جنم بھومی تحریک میں سر گرم …
بھارت میں انتہا پسندی میں اضافے کا رجحان برقرار :’’ بابری مسجد منہدم کرنے والوں کو سلام پیش کر تی ہوں ‘‘ بی جے پی رہنما کی ہرزہ سرائی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):بھار ت میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو شہید کئے جانے کے واقعے کو 29 سال گزرنے کے بعد بھی بھارتی انتہا پسند جماعت بی جے پی کی انتہا پسندی عروج پر ہے جبکہ ان کی ایک رہنما نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے والوں کو سلام پیش کرنا چاہئیے۔ رام جنم بھومی تحریک میں سر گرم کردار اداکرنے والی بی جے پی کی رہنما اور سابق یونین منسٹر اوما بھارتی نے کہا کہ وہ بابری مسجد کو منہدم کرنے والوں کو سلام پیش کرتی ہی۔
سابق وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش نے کہا کہ جب میں اس دن کو یاد کرتی ہوں، تو میں اسے اپنی زندگی کے قابل فخر لمحات میں سے ایک کے طور پر یاد کر تی ہوں۔بی جے پی رہنما نے کہا کہ وہمیشہ اس لمحے کی خوشی منائیں گی جب انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے بابری مسجد کا انہدام دیکھا۔اوما بھارتی نے کہامیں نہیں جانتی کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اس بابری مسجد کو منہدم کیا لیکن میں ان لوگوں کو سلام پیش کرتی ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بابری مسجد کے ڈھانچہ کے انہدام کے بعد ہی وزیر اعظم نریندر مودی رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ سکتے تھے۔ 6 دسمبر 1992 کو ایک مشتعل ہندو ہجوم نے ایودھیا میں 16ویں صدی کی بابری مسجد کو اس بہانے منہدم کر دیا کہ یہ ہندو بھگوان رام کی جائے پیدائش پر بنائی گئی تھی۔یہ بدقسمت واقعہ انتہائی دائیں بازو کی وشو ہندو پریشد کی مسلسل مہم کا نتیجہ تھا جسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بہت سے موجودہ رہنماؤں کی حمایت تھی ۔
بھارتی سپریم کورٹ نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے انتہا پسند ہندوؤں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندوؤں کے حوالے کر دی۔مسجد کے انہدام اور ہجوم کی خوشی نے بھارت کے سماجی تانے بانے میں مستقل دراڑ پیدا کردی اور بھارت کی مسلم اقلیت میں خوف پیدا کردیا۔مختصر یہ کہ بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ انہیں مسلسل اپنے عقائد اور ان مقامات سے خوف محسوس ہوتاہے جہاں وہ عبادت کرتے ہیں۔بابری مسجد بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں مغل شہنشاہ بابر کے جنرل میر باقی نے 1528-1529 عیسوی کے درمیان تعمیر کی تھی۔
تاہم انتہا پسند ہندوؤں نے دعویٰ کیا کہ اسے بھگوان رام کی جائے پیدائش (رام جنم بھومی) کی بنیادوں پر بنایا گیا تھا۔دسمبر 1949 میں، بھگوان رام کی مورتیاں ہندو کارسیوکوں نے رکھی تھیں اور مسجد کے اندر سے پراسرار طور پر نمودار ہوئیں۔ اس سے بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد میں وشو ہندو پریشد نے رام جنم بھومی تحریک کو جاری رکھنے کے لیے ایک گروپ بنایا،
جس میں بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کو اس مقام پر ایک عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کی مہم کا رہنما مقرر گیا۔نومبر 1989 میں، بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے انتہائی دائیں بازو کے ہندوؤں کو خوش کرنے کے لیے وشو ہندو پریشد کو بابری مسجد کے مقام پر ایک تقریب منعقد کرنے کی اجازت دی، جسے شیلانیہ (تقدس) کہا جاتا ہے۔6 دسمبر 1992 کو، بھارتی ریاست اتر پردیش میں بی جے پی کی سرپرستی میں جئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے ہندو انتہا پسند ہجوم نے بابری مسجد پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا۔
اس بدقسمت واقعے نے بھارت بھر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکا دیا جس کا نتیجہ ایک اندازے کے مطابق 2000 افراد کے قتل پر منتج ہوا، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔9 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے ایودھیا کے قصبے میں ایک متنازعہ مذہبی مقام کا کنٹرول ہندوؤں کو مندر کی تعمیر کے لیے دے کر ایک انتہائی متنازعہ فیصلہ دیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ پر پانچ ایکڑ زمین دی جائے گی۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ ہندوستان میں ہندوتوا نظریے کی حتمی فتح ہے جہاں انصاف کا انحصار اس بات پر ہے کہ کوئی کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نے دہائیوں پرانے تنازعہ کو خوشگوار طریقے سےختم کر دیا ہے۔5 اگست 2020 کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ پر ہندو مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔
اس اقدام کو ہندو بالادستی اور میڈیا کے پرجوش لوگوں نے بہت سراہا ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کا انہدام ہندوتوا کے ایجنڈے کی واضح عکاسی ہے جو آج بھی اس کی بنیادی شناخت بنا ہوا ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ہندوتوا میں مذہبی عدم برداشت کی بڑھتی ہوئی لعنت کا نوٹس لے۔








