بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا ”انڈین ایکسپریس“ کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ 4 اکتوبر (اے پی پی) بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارت کے ساتھ سنجیدہ اور پائیدار سفارتکاری، نتیجہ خیز روابط کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ پائیدار امن اور خوشحالی کیلئے راہ ہموار کی جا سکے جس سے دونوں ممالک سے غربت کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔ بھارتی روزنامہ ”انڈین ایکسپریس“ کے ساتھ ایک انٹرویو میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا …

اسلام آباد ۔ 4 اکتوبر (اے پی پی) بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارت کے ساتھ سنجیدہ اور پائیدار سفارتکاری، نتیجہ خیز روابط کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ پائیدار امن اور خوشحالی کیلئے راہ ہموار کی جا سکے جس سے دونوں ممالک سے غربت کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔ بھارتی روزنامہ ”انڈین ایکسپریس“ کے ساتھ ایک انٹرویو میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان بات چیت کے عمل کو کسی ایک یا دوسرے ملک کیلئے موزوں نہیں سمجھتا بلکہ بات چیت ہمارے باہمی مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت تیار ہے تو پاکستان بھی اس کا خواہش مند ہو گا، اگر بھارت تیار نہیں ہے تو ہم اس بات کا انتظار کریں گے کہ بھارت مذاکرات کیلئے آمادہ ہو۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ دونوں ممالک کو امن وخوشحالی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے کیرالہ میں اپنے خطاب میں صحیح کہا کہ ہمیں غربت کے خلاف مل کر لڑنا چاہئے، اگر ہمیں غربت کے خلاف لڑنا ہے تو ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے سرجیکل سٹرائیکس، مذاکرات کے عمل کی معطلی ، سارک سربراہ کانفرنس کو ملتوی کرنے اور پاک بھارت تعلقات کے مستقبل کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اہم تنازعہ رہے گا اور ہمیں پختہ یقین ہے کہ یہ تنازعہ صرف اور صرف سنجیدہ اور پائیدار سفارتکاری کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے لے کر ہمارے مشترکہ بیانات تک جو گذشتہ سال 10 دسمبر کو جاری کئے گئے جموں و کشمیر ایک اہم مسئلہ ہے اور دونوں ممالک نے اسے تسلیم کیا ہے، اس مسئلہ کو حل کرنے کی ضرورت ہے آپ اس بات کو تسلیم کریں گے کہ دونوں ممالک نے اس تنازعہ پر 1948ئ، 1965ءاور 1971ءمیں تین جنگیں لڑی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کارگل جنگ بھی ہوئی ہے، ان تمام جنگوں کے علاوہ یہ تنازعہ سمجھوتہ ایکسپریس، ممبئی حملے اور دیگر پر ختم نہیں ہوا اس لئے ہمارے نکتہ نظر کے مطابق دونوں ممالک کو سفارتکاری کو مرکزی اہمیت دینی چاہئے۔

Leave a Reply