نئی دہلی۔20جنوری (اے پی پی):بھارت نے اپنے سفارتکاروں کے اہل خانہ کو بنگلہ دیش سے واپس بلا لیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق بھارت نے بنگلہ دیش کوسفارتی تعیناتی کے حوالہ سے ’نان فیملی‘ ملک رجسٹر کر لیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی سفارتکار اور سفارتی عملہ جو بنگلہ دیش میں تعینات کیے جائیں گے وہ اپنے اہل خانہ یعنی بیوی، بچوں کو وہاں نہیں لے …
بھارت نے اپنے سفارتکاروں کے اہل خانہ کو بنگلہ دیش سے واپس بلا لیا

مزید خبریں
نئی دہلی۔20جنوری (اے پی پی):بھارت نے اپنے سفارتکاروں کے اہل خانہ کو بنگلہ دیش سے واپس بلا لیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق بھارت نے بنگلہ دیش کوسفارتی تعیناتی کے حوالہ سے ’نان فیملی‘ ملک رجسٹر کر لیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی سفارتکار اور سفارتی عملہ جو بنگلہ دیش میں تعینات کیے جائیں گے وہ اپنے اہل خانہ یعنی بیوی، بچوں کو وہاں نہیں لے جا سکیں گے۔
دنیا بھر میں صرف چار ممالک پاکستان، افغانستان، عراق اور جنوبی سوڈان ایسے ہیں جنھیں بھارت نے سفارتی تعیناتیوں کے حوالہ سے ’نان فیملی‘ ملک قرار دے رکھا ہے اور اب حالیہ فیصلے کے بعد اس فہرست میں بنگلہ دیش کو شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں تعینات بھارتی حکام کو اطلاع دی گئی تھی کہ اُن کے اہل خانہ کو 8 جنوری تک اپنے ملک واپس آنا ہو گا، تاہم جن سفاتکاروں اور عملے کے اراکین کے بچے بنگلہ دیشی سکولوں میں پڑھتے ہیں، انھیں وطن واپسی کے لئے اضافی 7 دن دیئے گئے تھے۔نتیجتاً 15 جنوری تک، ڈھاکہ، چٹاگانگ، کھلنا، سلہٹ اور راجشاہی میں تعینات بھارتی افسران کے خاندانوں کو بہت کم وقت میں وطن واپس جانا پڑا ہے۔ب
ھارتی وزارت خارجہ نے ابھی تک اس فیصلے کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ تاہم بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے کئی ذرائع نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔بنگلہ دیش میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر پیناکا رنجن چکرورتی کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ قدم اس خدشے کے تحت اٹھایا گیا ہو گا کہ فروری 2026 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے سکیورٹی کی صورتحال مزید کشیدہ ہو جائے گی جس کے باعث بھارتی ہائی کمیشن کے ملازمین کے خاندانوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل بھارت کی جانب سے یہ فیصلہ کرنا کوئی غیر معمولی بات ہے۔ پیناکا رنجن چکرورتی نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ جیسی بڑی سیاسی جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور اس فیصلے پر کافی تنازع پایا جاتا ہے۔
ایسی صورتحال میں انتخابات سے پہلے یا بعد میں تشدد کا امکان خارج نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم چکرورتی کا خیال ہے کہ بھارت کی جانب سے کیا گیا یہ فیصلہ عارضی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انتخابات کے بعد کوئی سیاسی حکومت اقتدار میں آتی ہے اور صورتحال مستحکم ہوتی ہے تو پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے اور بھارتی حکام کو دوبارہ اپنے خاندان کے ساتھ بنگلہ دیش میں رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔بھارت اور بنگلہ دیش کے سفارتکاروں کے تحفظ کے معاملے پر دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان کشیدگی کافی عرصے سے جاری ہے اور ماضی قریب میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ہائی کمشنرز کو طلب کر چکے ہیں اور وضاحتیں لے چکے ہیں۔20 دسمبر کی رات دیر گئے ایک گروہ نئی دہلی میں بنگلہ دیشی ہائی کمشنر ریاض حمید اللہ کی رہائش کے بالکل قریب پہنچ گیا تھا۔ یہ گروہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مبینہ ظلم و ستم کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔
مظاہرین نے بنگلہ دیش کے خلاف نعرے لگائے اور مبینہ طور پر ہائی کمشنر کی جان کو خطرے میں ڈال دیا گیا۔ بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور توحید حسین نے بعد میں کہا کہ مظاہرین ہائی کمشنر کی رہائش گاہ کے اس قدر قریب صرف اس لئے پہنچ سکے کیونکہ انھیں چانکیہ پوری جیسے انتہائی محفوظ سفارتی علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی تھی۔اس بیان سے تاثر ملا تھا کہ ممکنہ طور پر مظاہرین کو بھارتی حکومت کی حمایت حاصل تھی تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا تھا۔








