اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی اور وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا ہے کہ کشمیر ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے، بھارت میں اقلیتوں کو اپنے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، بھارت نے جونا گڑھ پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے، پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کو عالمی فورم پر اٹھائے گا، جونا …
بھارت نے جونا گڑھ ریاست پر غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے، وفاقی وزیر محبوب سلطان اورشہریار آفریدی کا جونا گڑھ کےیوم سیاہ کے حوالے سے تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی اور وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا ہے کہ کشمیر ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے، بھارت میں اقلیتوں کو اپنے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، بھارت نے جونا گڑھ پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے، پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کو عالمی فورم پر اٹھائے گا، جونا گڑھ کے مسئلہ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اٹھائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو جونا گڑھ ریاست کے حوالے سے یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان اور نواب محمد جہانگیر خان جی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ کشمیر ایک نیوکلئیر فلش پوائنٹ ہے اور ہندوستان میں اقلیتوں کو اپنے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے جونا گڑھ ریاست پر غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کو عالمی فورمز پر اٹھائے گا۔ بھارت کا چہرہ بےنقاب کریں گے۔ انہوں نےکہاکہ بھارتی وزیراعظم مودی انسانیت اور امن کے منہ پر ایک دھبہ ہے اور یہ انسانیت کی تذلیل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ آج تک بھارت میں جو کچھ ہوا ہے اس کا جواب کون دے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سیفران صاحبزاد محبوب سلطان نے کہا کہ وہ جونا گڑھ کے مسئلے کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اٹھائیں گے اور یہ تجویز پیش کریں گے کہ جونا گڑھ سیکرٹریٹ قائم کرنے کی منظوری دی جائے ۔ اس موقع پر محمد جہانگیر خان خانجی نے کہا کہ جونا گڑھ کا مسئلہ ایک قومی مسئلہ ہے ۔15ستمبر 1947کو نواب آف جونا گڑھ نے جونا گڑھ سٹیٹ کونسل کی مشاورت کے بعد پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور اس وقت پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے اس الحاق کی توثیق کی تھی لیکن بعد ازیں 9 نومبر 1947کو بھارت نے اس ریاست پر جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے اس پر غیر قانونی قبضہ جما لیا۔ ہمیں اس ریاست کو ہندوستانی قبضے سے نجات دلوانا ہوگی ۔








