بھارت نے کبھی بھی سندھ طاس معاہدے کی پاسداری اور احترام نہیں کیا، انجینئر صابر حسین قائم خانی

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی انجینئر صابر حسین قائم خانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی ضمانت کے تحت طے پایا تھا، عالمی قوانین کے مطابق ڈائون سٹریم کے لوگوں کا خیال رکھا جاتا ہے

حیدرآباد۔ 17 مئی (اے پی پی):متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی انجینئر صابر حسین قائم خانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی ضمانت کے تحت طے پایا تھا، عالمی قوانین کے مطابق ڈائون سٹریم کے لوگوں کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن بھارت نے کبھی بھی سندھ طاس معاہدے کی پاسداری اور احترام نہیں کیا۔ یہ بات انہوں نے "اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی ایک شق ہے کہ سیلابوں کی صورت میں پاکستان کو پیشگی اطلاع دی جائے گی تاکہ ڈائون سٹریم کے لوگوں کو اس کے اثرات سے بچایا جاسکے لیکن جب کبھی انڈیا میں سیلاب آتے ہیں تو وہ پاکستان کی طرف اچانک پانی چھوڑ دیتے ہیں جس سے ہمارے لوگوں کا قیمتی جانی و مالی نقصان ہوتا ہے ، بھارت کا یہ انسان دشمن اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 2025ء کے بعد یکطرفہ طور پر کہنا شروع کیا کہ ہم اس معاہدے کو منسوخ کرتے ہیں جب کہ ایسا کوئی عالمی قانون موجود نہیں، جن دو ملکوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہو تو اسے دونوں ملکوں کی رضامندی سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے اس کے بغیر معاہدہ ختم نہیں کیا جاسکتا۔ صابر قائم خانی نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے پر بھرپور آواز اٹھائی اور اسے مختلف عالمی فورمز پر لےکر گیا ، پاکستان کے پاس عالمی عدالت کے پاس جانے کا بھی اختیار ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس جو سب سے بڑا اختیار ہے وہ اپنے حق، اپنے عوام کی جانوں کے تحفظ ، اپنے اثاثہ جات اور پانی جو ہماری لائف لائین ہے، کے دفاع کا حق ہے اور ہم یہ حق ہمیشہ محفوظ بھی رکھتے ہیں، استعمال بھی کرنا جانتے ہیں اور یہ بات انڈیا کو اچھی طرح پتا ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں غربت بہت ہے، وہ اپنے مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے علاوہ اور الیکشن کے دنوں میں ہماری طرف جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں اور اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ پاکستان کے ہر حق کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔