بھارت کا سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کا اقدام غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے، آبی ماہر سعدیہ خالد

ممتاز ماحولیاتی اور آبی ماہر سعدیہ خالد نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے کسی بھی اقدام کو غیر قانونی اور مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا

اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):ممتاز ماحولیاتی اور آبی ماہر سعدیہ خالد نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے کسی بھی اقدام کو غیر قانونی اور مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر واضح اور مضبوط موقف رکھتا ہے، اس معاملے کو مسلسل بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتا ہے اور عالمی برادری کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات چیت میں شامل ہونے کو تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس معاملے کو ہر سفارتی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اٹھانا چاہیے۔انہوں نے بین الاقوامی میڈیا اور ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے والے ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ تنازعہ کے پرامن حل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔سعدیہ خالد نے خبردار کیا کہ آبی وسائل پر طویل تناؤ پاکستان اور بھارت دونوں میں سنگین معاشی نقصانات اور عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے، اس سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔زراعت پر پاکستان کے انحصار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی ایک بنیادی ضرورت ہے اور زرعی شعبے میں لاکھوں لوگوں کے لیے لائف لائن ہے۔انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ مذاکرات کی میز پر آئے اور دونوں ممالک کے عوام کے وسیع تر مفاد میں بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرے۔سعدیہ خالد نے ابھرتے ہوئے ماحولیاتی چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کیلئے پانی کے انتظام اور نگرانی کی جدید پالیسیاں اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل قریب میں سنگین نتائج پیدا ہونے کا خدشہ ہے