اقوام متحدہ۔ 7 اپریل (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی کشمیری قیدیوں کو رہا کرنے کی درخواست کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز میں اضافے کے باعث بھارتی حکام ،مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی طور پرگرفتار کیے گئے کشمیری قیدیوں کو رہا کرنے کے مطالبے پر بہت قریب سے جائزہ لے۔ اقوام متحدہ …
بھارت کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز میں اضافے کے باعث مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی طور پر گرفتار کشمیری قیدیوں کو رہا کرنے کے مطالبے کا بہت قریب سے جائزہ لے،انتونیو گوٹریس

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔ 7 اپریل (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی کشمیری قیدیوں کو رہا کرنے کی درخواست کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز میں اضافے کے باعث بھارتی حکام ،مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی طور پرگرفتار کیے گئے کشمیری قیدیوں کو رہا کرنے کے مطالبے پر بہت قریب سے جائزہ لے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے 6 بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری قیدیوں کی رہائی سے متعلق ”اے پی پی” کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء کے دوران رکن ریاستوں کو قیدیوں سے متعلق بہت قریب سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور یہی نہیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ نے بھی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خاص طور پر کورونا وائرس کے شکار افراد، ان میں عمر رسیدہ بیمار قیدیوں سمیت کم خطرناک قیدیوں کو رہا کرنے کے طریقوں کی جانچ کریں اور جہاں تک کشمیر کی صورتحال کا تعلق ہے اس سے متعلق سیکرٹری جنرل کا ماننا ہے کہ سیاسی حل کے ذریعے انسانی حقوق کے مسئلے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ 6 بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں جنیوا کی تشدد کے خلاف عالمی تنظیم ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر، پیرس کی انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس، جوہانسبرگ کی تنظیم سی آئی وی آئی سی یو ایس، منیلا کی ایشیئن فورم فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈویلپمنٹ، جنیوا کی انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس اور لندن کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مشترکہ بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام کی جانب سے ہزاروں کشمیریوں کی غیرقانونی گرفتاریوں اور بھارت میں کورونا وائرس کے4000 متاثرہ کیسز اور کئی کیسز رپورٹ نہ ہونے سے ان قیدیوں کے مستقبل کو غیریقینی صورتحال کا سامنا ہے اور محددو جگہ ہونے کے باعث ایک دوسرے کے بہت قریب ہونے سے قیدیوں اور جیل کا عملے کی زندگیوں کو کورونا وائرس کے باعث انتہائی خطرہ درپیش ہے جبکہ ملک میں حفظان صحت کے اصولوں جیسے ہاتھ دھونے، سماجی فاصلہ اور سیلف آئیسولیشن کی ہدایات دی گئی ہیں جو قیدیوں کے لیے ناممکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قیدیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت اور تندرستی کو یقینی بنائے، تاہم 117 فیصد سے زیادہ کی قابلیت کی شرح کے ساتھ پرہجوم بھارتی جیلیں کورونا وائرس پھیلانے کے لیے بہترین ماحول تشکیل دے رہی ہیں۔ قیدیوں اور جیل کے عملے میں بیماری کے پھیلائو پر قابو پانے کے لئے بھارتی سپریم کورٹ نے 23 مارچ کو ریاستی حکومتوں سے کہا کہ وہ جیل کی شرائط میں نرمی کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے 7 سال تک کی سزا والے ملزمان کو ضمانت دینے پر غور کرے، تاہم گزشتہ سال 5 اگست کو 2019 اگست 2019 کو جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کی منسوخی پر سینکٹروں کشمیری نوجوانوں ، صحافیوں ، سیاسی رہنماں ، انسانی حقوق کے محافظوں اور دیگر کی غیر قانونی گرفتاریوں پر تشویش ہے جو اس اقدام سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل نہیں ہوں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے کشمیری قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ قانونی بنیادوں کے بغیر محض تنقید یا اختلاف رائے ظاہر کرنے کے لئے غیرقانونی طور پر حراست میں لیے گئے کشمیری قیدیوں کی رہائی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے۔








