بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، انڈس ریور ڈولفن کی بقا خطرے سے دوچار

Indus Waters Treaty Violations

پشاور۔ 06 جون (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے انڈس ریور ڈولفن کی بقا خطرے سے دوچار ہے جبکہ ان خلاف ورزیوں نے دریائے سندھ میں مچھلیوں کے شکار کرنے والے ماہی گیروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ان میں ڈیرہ اسماعیل خان کے وادی گومل سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ ماہی گیر اصغر علی بھی ہے جو شدید گرمی کے دوران بہتر روزگار کی تلاش میں اپنی پرانی لکڑی کی کشتی کو دریائے سندھ کے گہرے پانیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ دریائے سندھ ایک غریب ماہی گیر کےلیے محض پانی کا راستہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک لائف لائن ہے۔اصغر علی 2002 میں والد کے انتقال کے بعد سے خاندان کےلیے روزی کمانے کی خاطر محنت کر رہے ہیں جبکہ دریائے سندھ صدیوں سے گلگت بلتستان سے لے کر خیبر پختونخوا اور پنجاب سے لے کر سندھ کے صوبوں تک کے پورے ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اصغر نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر دریائے سندھ میں کشتیاں چلاتے، جال پھینکتے اور اس دریا کی لہروں اور مزاج کا مشاہدہ کرتے ہوئے شب و روز بسر کئے ہیں۔ اس دریا سے حاصل ہونے والے روزگار نے نسلوں کی زندگیوں کو سنوارا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال اپریل سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دریا کا مزاج بدلنا شروع ہو گیا ہے۔

دریا خان کے سامنے اپنی چھوٹی کشتی کے کنارے کھڑے ہو کر وہ ڈیرہ اسماعیل خان کے پاس سے گزرنے والے پانی کے وسیع پھیلاؤ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ وقت یاد کرتا ہے جب وہاں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار انڈس ریور ڈولفن کا دکھائی دینا زیادہ عام بات تھی۔ وہ کہتا ہے کہ ڈولفن کی بقا کا دارومدار دریا کے مستقل بہاؤ پر ہے۔ جب پانی کی سطح بہتر ہوتی ہے، تو دریا زیادہ مچھلیوں کی پرورش کرتا ہے اور مہاشیر، رہو اور ڈولفنز کے لیے ایک بہتر ماحول پیدا کرتا ہے۔ جب پانی کے بہاؤ میں کمی آتی ہے، تو پورا ماحولیاتی نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ دریائے سندھ کی ڈولفن جو دنیا کے نایاب ترین میٹھے پانی کے ممالیہ جانوروں میں سے ایک ہے، زیادہ تر پاکستان میں دریائے سندھ کے نظام میں پائی جاتی ہے۔ بینائی سے محروم اور گدلے پانیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے والی یہ نسل خوراک تلاش کرنے، افزائشِ نسل کےلیے اپنے مسکنوں میں ہجرت کرنے کےلیے دریا کے مناسب بہاؤ پر انحصار کرتی ہے۔ محکمہ ماہی پروری خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر محمد زبیر نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں نے دریائے سندھ کی ڈولفن کی آبادی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نایاب ممالیہ جانور کی افزائشِ نسل کےلیے میٹھے پانی کا مسلسل بہاؤ ان کی آبادی کے پھلنے پھولنے کےلیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کی ڈولفن دنیا کے نایاب ترین ممالیہ جانوروں میں سے ایک ہے جو زیادہ تر جنوبی پاکستان میں پائی جاتی ہے اور آبی حیات کی آبادی میں میٹھے پانی کی دوسری سب سے زیادہ خطرے سے دوچار نسل ہے۔ مختلف عوامل بشمول پانی کی آلودگی ، غیر قانونی شکار، بیراجوں کی تعمیر کی وجہ سے مسکن ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا ہے اور آبپاشی کی نہروں میں ڈولفن کے پھنس جانے کی وجہ سے اس نسل کی آبادی بتدریج کم ہوئی ہے لیکن اب بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں نے دریائے سندھ کی ڈولفن کی آبادی کو سنگین خطرے میں ڈال دیا ہے۔اس نسل کے تقریباً 2,000 نمونے (ڈولفنز) اپنے سابقہ وسیع علاقے کے ایک چھوٹے سے علاقے یعنی پاکستان میں دریائے سندھ کے زیریں حصوں میں موجود ہیں۔تاریخی طور پر یہ ڈولفنز دریائے سندھ کے ڈیلٹا سے لے کر، میدانوں سے ہوتی ہوئی کوہ قراقرم کے دامن تک دریائے سندھ کے نظام کے تقریباً 3500 کلومیٹر کے علاقے میں آزادانہ تیرتی تھیں۔ڈولفن کی سب سے بڑی آبادی صوبہ سندھ میں گدو اور سکھر بیراجوں کے درمیان پائی جاتی ہے اور اس کی چھوٹی آبادیاں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر ڈیموں کے منصوبوں کی غیر قانونی تعمیر نے دریائے سندھ کی ڈولفنز کی بقا کو خطرات میں ڈال دیا ہے۔ محمد زبیر نے خبردار کیا کہ پانی کی دستیابی میں کسی بھی قسم کی کمی ڈولفن، ٹراؤٹ اور مہاشیر سمیت دیگر نسلوں کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریا کے کم بہاؤ سے مسکن ٹکڑوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں، ڈولفن کی آبادیاں الگ تھلگ ہو سکتی ہیں، مچھلیوں کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں اور ڈولفنز کے آبپاشی کی نہروں یا کم گہرے پانیوں میں پھنس جانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے نوید فاروق خان کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں آبی حیات اور لائیوسٹاک کے وسائل کی آبادی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھ کر بین الاقوامی معاہدوں اور ریاستوں کے مابین تعلقات کے تقدس کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاشسٹ مودی حکومت کو ایسے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ طویل عرصے تک معاہدے کو معطل کرنے کی کوئی بھی کوشش خاص طور پر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان پانی کے تنازعات کے سنگین اثرات کے پیش نظر، جنوبی ایشیا میں امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ جو 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا تھا، نے مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو دیا تھا جبکہ بھارت مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کو کنٹرول کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے معاہدے کی بنیادی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان کو پیشگی اطلاع دیے بغیر، جیسا کہ معاہدے کے تحت درکار ہے، دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں غیر قانونی تبدیلی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے بہاؤ میں یہ اچانک تبدیلیاں پاکستان کےلیے شدید تشویش کا باعث ہیں اور بھارت کی جانب سے پانی کے یکطرفہ اخراج کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ایسے غیر قانونی اقدامات دریائے سندھ کی ڈولفن کے علاوہ پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور لاکھوں لوگوں کے روزگار کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے اس بلاجواز اقدام کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے تعبیر کیا اور کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی برادری کے سامنے اس مسئلے کو بار بار اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے ان خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنے بھارتی ہم منصب سے باضابطہ طور پر وضاحت طلب کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں ثالثی کی بین الاقوامی عدالت کے تاریخی فیصلے کے بعد پاکستان ، بھارت سے توقع کرتا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات سے گریز کرے گا اور معاہدے کی تمام ذمہ داریوں کو ان کی اصل روح کے مطابق پورا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورٹ آف آربیٹریشن کی جانب سے پاکستان کے حق میں تاریخی فیصلے اور ایوارڈ کے بعد بھارت اپنے تمام دعوے کھو چکا ہے۔بھارت پر معاہدے کی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس جیسے منصوبے تعمیر کرکے مستقل طور پر معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاشسٹ مودی حکومت نے ثالثی اور غیر جانبدار ماہرین کی کارروائیوں میں حصہ لینے سے انکار کر کے معاہدے کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو بھی کمزور کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے بہاؤ کو روکنے سے لاکھوں پاکستانی بھوک اور معاشی بدحالی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں سے نہ صرف علاقائی امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدوں اور بین الریاستی تعلقات کو چلانے والے اصولوں کے تقدس کو بھی خطرہ ہے۔ سابق چیف کنزرویٹر آف فارسٹ نیاز علی نے اس بات پر زور دیا کہ دریائے سندھ میں ماحولیاتی بہاؤ کو برقرار رکھنا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ بشمول ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ڈولفن کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی مناسب سطح ویٹ لینڈز، ماہی گیری اور دریا کے کنارے موجود جنگلات کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے جبکہ جنوبی ایشیا کے سب سے منفرد میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ دریائے سندھ کی ڈولفن خود دریا کی صحت کی علامت بن چکی ہے۔ اس کا مستقبل اس پانی کی حالت سے گہرا جڑا ہوا ہے جس میں یہ رہتی ہے، جو اسے ماحولیاتی تبدیلی کا ایک اہم اشاریہ بناتا ہے۔ اصغر علی جیسے دریا کے کناروں پر رہنے والے خاندانوں کے لیے ڈولفن کا معاملہ صرف ماحولیاتی یا پانی کا نہیں بلکہ ذاتی بھی ہے۔ ہزاروں ماہی گیر، کسان اور مزدور اپنی روزی روٹی کےلیے دریائے سندھ پر انحصار کرتے ہیں۔ دریا کی صورتحال میں تبدیلیاں براہ راست گھرانوں کی آمدنی، غذائی تحفظ اور مقامی معیشتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اصغر علی کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ادوار کا گواہ رہا ہے جب مچھلیوں کے شکار میں کمی آئی اور دریا کے راستے تنگ ہو گئے جس سے دریا پر انحصار کرنے والے لوگوں کے لیے زندگی روز بروز مشکل ہوتی گئی۔ وہ کہتا ہے کہ دریا ہم سب کو آمدنی فراہم کرتا ہے۔ اگر دریا کمزور ہوتا ہے تو لوگ، مچھلیاں اور جنگلی حیات جس پر لوگ انحصار کرتے ہیں وہ سب کمزور ہوتے ہیں ۔ اصغر علی کہتے ہیں کہ ڈولفن کا تعلق دریائے سندھ سے ہے۔ دریا کی حفاظت کا مطلب ڈولفن کی حفاظت ہے اور اس کے کناروں پر رہنے والے لوگوں کے مستقبل کی حفاظت ہے۔ اصغر جیسے خاندانوں اور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار دریائے سندھ کی ڈولفن کے لیے دریائے سندھ کی صحت ، بقا کا معاملہ بنی ہوئی ہے جو پاکستان کے سب سے اہم ترین دریا کے نظاموں میں سے ایک میں انسانی روزگار اور جنگلی حیات کے تحفظ کو ایک لڑی میں پروتی ہے