حیدرآباد۔ 17 فروری (اے پی پی):سندھ آبادگار بورڈ کے صدر سید محمود نواز شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی نفی ہیں بلکہ علاقائی استحکام کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ "اے پی پی" سے …
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، صدر سندہ آبادگار بورڈ

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 17 فروری (اے پی پی):سندھ آبادگار بورڈ کے صدر سید محمود نواز شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی نفی ہیں بلکہ علاقائی استحکام کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ "اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے سید محمود نواز شاہ کا کہنا تھا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے عالمی سطح پر واضح قوانین موجود ہیں۔
چونکہ دریا مختلف ممالک اور خطوں سے گزرتے ہیں، اس لیے بالائی علاقوں میں واقع ممالک پر لازم ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حصے کے مطابق پانی استعمال کریں اور باقی پانی زیریں علاقوں کو فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول تمام ممالک پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں اور بھارت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں پاکستان اور بھارت فریقین ہیں جبکہ عالمی بینک سمیت دیگر بین الاقوامی ادارے اس کے ضامن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاہدے سے انحراف کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور کسی ذمہ دار ریاست کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ سید محمود نواز شاہ نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور پاکستان کے پانی کے حق کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پانی جیسے بنیادی مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا انتہائی خطرناک رجحان ہے جس کی مذمت کی جانی چاہیے۔








