بھارت کی سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوشش بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے ،میاں محمد ایوب

پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے نائب صدر میاں محمد ایوب نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش نہایت سنگین، غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین و معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے،جسے پاکستان اپنی قومی سلامتی،خودمختاری اور بقا کے خلاف ایک براہ راست خطرہ تصور کرتا ہے

لاہور۔5جولائی (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے نائب صدر میاں محمد ایوب نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش نہایت سنگین، غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین و معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے،جسے پاکستان اپنی قومی سلامتی،خودمختاری اور بقا کے خلاف ایک براہ راست خطرہ تصور کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی وسائل،عوام،خودمختاری،قومی مفادات اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی، سفارتی،سیاسی اور قومی سطح پر اقدامات کرے گا۔اتوار کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد ایوب نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کسی ایک ملک کی جانب سے دوسرے ملک پر کیا گیا احسان نہیں بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ، قانونی اور قابل احترام بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی ضمانت عالمی اداروں نے بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کی کوشش نہ صرف بین الاقوامی قانون کی روح کے منافی ہے بلکہ اس سے پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت اگر پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس کا رخ موڑنے یا اسے سیاسی دبائو اور جارحیت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان اسے محض ایک انتظامی یا تکنیکی تنازع نہیں بلکہ اپنی قومی سلامتی اور قومی بقا کے خلاف اقدام تصور کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کسی بھی ملک کی معیشت، زراعت، خوراک، توانائی اور انسانی زندگی کا بنیادی ستون ہے، اس لیے پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر موثر اقدامات کرے گا۔ایک سوال کے جواب میں میاں محمد ایوب نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک اور خطے میں امن، استحکام و خوشحالی کا خواہاں ہے، تاہم امن کی خواہش کو ہرگز کمزوری یا پسپائی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی اور اس پر عملدرآمد کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن، اعتماد سازی اور معمول کے تعلقات کا تصور بھی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو اپنی قانونی، سفارتی، سیاسی، معاشی اور قومی سلامتی کی حکمت عملی کو مزید مضبوط اور موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو عالمی فورمز، اقوام متحدہ، بین الاقوامی عدالتوں اور سفارتی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے موقف کو بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے تاکہ آبی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔میاں محمد ایوب نے کہا کہ پاکستان کو اپنے آبی وسائل کے تحفظ اور موثر استعمال کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جدید آبپاشی نظام، نئے آبی ذخائر کی تعمیر، ڈریپ اریگیشن ٹیکنالوجی، پانی کی ری سائیکلنگ، سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے منصوبوں (ڈی سیلینیشن) اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے ترقیاتی منصوبوں پر فوری سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے ہر قطرے کا تحفظ نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کی بقا، خوشحالی اور قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی عالمی قلت کے تناظر میں آبی وسائل کے تحفظ کا مسئلہ اب صرف قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی روک تھام کے لیے موثر بین الاقوامی قوانین اور ایک نئے عالمی کنونشن کی تشکیل پر سنجیدگی سے غور کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کو سیاسی دبائو، جارحیت اور بلیک میلنگ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے بلکہ یہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں میاں محمد ایوب نے کہا کہ پاکستان دنیا سے ہمدردی یا رعایت کا طلبگار نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور انصاف کے عالمی اصولوں کے مطابق اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ صرف ایک دریا نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیب، تاریخ، معیشت، ثقافت اور قومی بقا کی علامت ہے، اور پاکستانی قوم اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات، آبی حقوق اور مستقبل کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی، سفارتی و قومی راستہ اختیار کرے گا اور کسی بھی صورت اپنے جائز حق سے دستبردار نہیں ہوگا