بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 کے خاتمہ اور کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کا ہنگامی اجلاس طلب

جدہ ۔ 6 اگست (اے پی پی)بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت متعین کرنے والے آرٹیکل 370 کے خاتمہ اور کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر منگل کو جدہ میں او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، آذربائیجان، ترکی اور دیگر ممبر ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ …

جدہ ۔ 6 اگست (اے پی پی)بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت متعین کرنے والے آرٹیکل 370 کے خاتمہ اور کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر منگل کو جدہ میں او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، آذربائیجان، ترکی اور دیگر ممبر ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کر رہے تھے۔ وزیر خارجہ نے او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے لوک سبھا کا اجلاس بلا کر مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کا تعین کرنے والے 370 آرٹیکل اور 35 اے کا خاتمہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئے گئے اقدامات جنوبی ایشیاءمیں امن و امان کی مخدوش صورتحال کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہے جو آپ کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ وزیر خارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کرنے اور ان میں شرکت کیلئے وقت نکالنے پر تمام شرکاءاور منتظمین کا شکر یہ ادا کیا اور کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر (جو کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فوجی علاقہ ہے) میں بھارت کی جانب سے مزید فورس بھجوانا، تعلیمی اداروں کو بند کرانا اور ایمرجنسی کی کیفیت بھارت کے ارادوں کا پتہ دے رہے تھے۔