اقوام متحدہ۔14اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشل بیچلٹ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں پر بھارت کا احتساب کریں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس سے ان کے دفتر کی ساکھ مزید متاثر ہو گی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عامر خان …
بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں پر بھارت کا احتساب کیا جائے ،پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عامر خان کا اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلٹ پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔14اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشل بیچلٹ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں پر بھارت کا احتساب کریں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس سے ان کے دفتر کی ساکھ مزید متاثر ہو گی۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عامر خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سماجی، ثقافتی اور انسانی امور کے لیے کام کرنے والی تیسری کمیٹی میں اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلٹ کے ساتھ مکالمے کے دوران انہیں بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں بارے آگاہ کیا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں جموں و کشمیر میں بھارت کے کشمیری عوام کے حقوق کی متعدد خلاف ورزیوں کو اجاگرکرنے پر ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ہائی کمشنر دفتراپنی رپورٹ میں جموں و کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کو شامل کرے گاجن میں بھارت کے 9 لاکھ فوجیوں کے مقبوضہ علاقے پر قبضہ، ڈیموگرافک تبدیلی لانے کے لیے 42 لاکھ جعلی ڈومیسائل سرٹیفیکٹ کا اجرا،پیلٹ گنز کا استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کشمیریوں کو بینائی سے محروم کرنا اور ماورائے عدالت ہزاروں افراد کا قتل،کشمیریو ں کے گھروں کو مسمار کرنا، بڑے پیمانے پر جبری قید ، ظلم و جبر ،تشدد ، عصمت دری کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، اجتماعی قبروں کی دریافت اور کشمیریوں کو غائب کرنا، انسانی حقوق کے حامیوں ، صحافیوں اور میڈیاکے خلاف کریک ڈائون، انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کی بندش شامل ہے۔
پاکستان کے نائب مستقل مندوب عامر خان نے کہا کہ 2018اور 2019کی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے دفتر کی 2 رپورٹس ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی میڈیا ان خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سپیشل پروسیجرز مینڈیٹ ہولڈرز یہ اعلان کر چکے ہیں کہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا طرز عمل ہے ، اس نے اقلیتوں پر ہندوتوا نظریہ مسلط کیا ہواہے اور آزاد میڈیا ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور او ایچ سی ایچ آر کو کسی بھی قسم کی رسائی دینے کو مسلسل مسترد کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے میں ناکامی او ایچ سی ایچ آر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے روک تھام کے مینڈیٹ کی ساکھ اور انسانی حقوق کی صورتحال پر غیر منتخب اور غیر جانبدارانہ غور و فکر کو مزید ختم کردے گی۔انہوں نے ہائی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر میں نسل کشی ، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کی فوری تحقیقات کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
انہوں نے ہائی کمشنر سے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر او ایچ سی ایچ آر کی اگلی رپورٹ کب جاری ہونے بارےپوچھا نیز یہ بھی پوچھا کہ جموں و کشمیر میں انسانی صورتحال پر 2018 اور 2019 کجو ی ر پورٹس پیش کی گئی تھیں ان کی سفارشات پرعملدرآمد کے لیے او ایچ سی ایچ آر نے کیا اقدامات کیے ہیں اوراو ایچ سی ایچ آر بھارتی حکومت سے اقوام متحدہ کے مبصرین ، سپیشل پروسیجرز (خصوصی طریقہ کار) اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو جموں و کشمیر تک رسائی کی اجازت دینے پر بات چیت کر رہا ہے۔
جس کے جواب میں انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلٹ نے کہا کہ ان کا دفتر متنازع علاقہ کشمیر کے دونوں اطراف تک موثر رسائی حاصل کرتا رہے گا ، ہم دونوں ممالک کو اسے قبول کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
او ایچ سی ایچ آر نے کہا کہ ادارے نے 2018 اور2019 میں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف پر انسانی حقوق کی صورتحال پر2 رپورٹس جاری کیں ، ہم ان مسائل پر پاکستان اور بھارت کے حکام کے ساتھ باقاعدہ تعمیری بات چیت اور روابط جاری رکھیں گے۔








