اسلام آباد۔ 01 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قتل مقدمہ اور پھانسی سے متعلق دائر صدارتی ریفرنس نمبر 1 آف 2011 پر اپنی مشاورتی رائے جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بھٹو کیس میں عدالتی کارروائی اور فیصلہ منصفانہ سماعت اور آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں تھےتاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ رائے آئین کے تحت مشاورتی نوعیت کی …
بھٹو ٹرائل آ ئین کے تحت منصفانہ نہیں تھا، شفافیت اور قانون کے تقاضے پورے نہ ہوئے، جسٹس محمد علی مظہر کا بھٹو پھانسی ریفرنس پر تفصیلی نوٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 01 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قتل مقدمہ اور پھانسی سے متعلق دائر صدارتی ریفرنس نمبر 1 آف 2011 پر اپنی مشاورتی رائے جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بھٹو کیس میں عدالتی کارروائی اور فیصلہ منصفانہ سماعت اور آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں تھےتاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ رائے آئین کے تحت مشاورتی نوعیت کی ہے اور اس کے ذریعے ماضی کے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ روز جاری رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ دستاویز کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق دائر صدارتی ریفرنس پر اپنی 24صفحات پر مشتمل تفصیلی اضافی رائے میں قرار دیا ہے کہ بھٹو کا ٹرائل آئین کے آرٹیکل 4 اور 9 کے تحت منصفانہ سماعت کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا تھا اور عدالتی کارروائی میں شفافیت، غیر جانبداری اور قانون کے طے شدہ طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا۔
جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق محض ایک وعدہ معاف گواہ کے بیان کی بنیاد پر سزائے موت سنانا قانون اور انصاف کے مسلمہ اصولوں کے منافی تھا، ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرائل کے دوران ججوں کی ذاتی جانبداری اور پہلے سے قائم شدہ ذہن نے منصفانہ فیصلے کی بنیاد کو بری طرح متاثر کیا۔
انہوں نے اپنی رائے میں نشاندہی کی کہ پولیس کی جانب سے بند کیا گیا مقدمہ مارشل لا کے دور میں کسی قانونی جواز کے بغیر دوبارہ کھولا گیا، جبکہ مقدمے کو سیشن کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ بھی ملزمان کو نوٹس دیے بغیر اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سرسری انداز میں کیا گیا۔جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے ٹرائل کے دوران بینچ کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، تاہم اس اعتراض کو تسلیم نہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی تھا۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی کے دوران استعمال کیے گئے سخت، طنزیہ اور تحقیر آمیز ریمارکس سے نہ صرف عدالتی وقار مجروح ہوا بلکہ غیر جانبداری کا تصور بھی متاثر ہوا۔اپنی رائے میں جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججوں کی جانبداری نے انہیں اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ اس غیر معمولی اور تاریخی اہمیت کے حامل مقدمے میں آزادانہ اور منصفانہ فیصلہ کر سکیں۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ اختیار ریاست کے تمام اداروں کے لیے وزنی اور رہنمائی فراہم کرنے والی قانونی حیثیت رکھتا ہے۔
اپنی اضافی رائے میں جسٹس محمد علی مظہر نے توبہ کے اصول سے متعلق ایک بنیادی اور فکری سوال بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کے غور و فکر میں ہے کہ آخر اس عدالت نے توبہ سے متعلق سوال کو کیوں فریم کیا، جبکہ اصل مسئلہ غیر منصفانہ اور جانبدار ٹرائل تھا۔انہوں نے استفسار کیا کہ آخر توبہ کس نے کرنی تھی؟کیا وہ مرحوم ارواح جو ہائی کورٹ میں مقدمہ سنتی رہیں؟یا وہ ججز جنہوں نے اپیل اور نظرِثانی کی سماعت کی؟یا پھر وہ بینچ جس نے اس سوال کو قابلِ سماعت سمجھ کر فریم کیا؟یا وہ بینچ ارکان جو ریفرنس دائر ہونے کے برسوں بعد اپنی رائے دے رہے ہیں؟
جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق اگرچہ یہ رائے واضح الفاظ میں ندامت کا اعلان نہیں کرتی تاہم اس میں کسی حد تک پشیمانی اور اعترافِ کوتاہی کا پہلو ضرور جھلکتا ہے، اور منصفانہ ٹرائل اور ڈیو پروسیس کو یقینی بنانے میں ناکامی پر توبہ کے مفہوم کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ صدارتی ریفرنس کے سوال نمبر 4 پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا اور یہ معاملہ بدستور غیر طے شدہ ہے۔اپنی رائے کے اختتام پر جسٹس محمد علی مظہر نے اردو کےمعروف شاعر مرزا غالب کے اشعار درج کیے۔کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔







