اسلام آباد ۔ 13 اپریل (اے پی پی) کورونا وائرس کی صورتحال پر قائم کی گئی خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کہا ہے کہ وہ استقامت حوصلے اور صبر سے کام لیں، حکومت انہیں وطن واپس لانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، کورونا کی وباء اللہ کی طرف سے امتحان ہے وہ حکومت سے ساتھ تعاون کریں جبکہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا …
بیرون ملک مقیم پاکستانی استقامت، حوصلے اور صبر سے کام لیں، حکومت انہیں وطن واپس لانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، کورونا کی وباء اللہ کی طرف سے امتحان ہے وہ حکومت سے ساتھ تعاون کریں ، کورونا پر قائم پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر نور الحق قادری اور وزیر مملکت شہریار آفریدی کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 اپریل (اے پی پی) کورونا وائرس کی صورتحال پر قائم کی گئی خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کہا ہے کہ وہ استقامت حوصلے اور صبر سے کام لیں، حکومت انہیں وطن واپس لانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، کورونا کی وباء اللہ کی طرف سے امتحان ہے وہ حکومت سے ساتھ تعاون کریں جبکہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی صورت حا لمیں عالمی سطح پر بنائے گئے ایس او پیز کو مدنظر رکھتے ہوئے پارلیمنٹ بھرپور اور موثر انداز میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علماء کرام کے ساتھ ضلعی سطح پر مشاورت کے ساتھ رمضان المبارک اور مساجد کے حوالے سے جو بھی پالیسی بنے گی وہ پورے ملک کیلئے ہوگی۔ مولانا فضل الرحمن ، سراج الحق، ساجد نقوی سمیت دیگر مسالک کے علماء کرام اور قیادت کے ساتھ مل کر پالیسی کو حتمی شکل دیں گے۔ پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں کورونا پر قائم پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری ، وزیر مملکت شہریار آفریدی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کورونا کا پوری دنیا کو سامنا ہے، پوری دنیا کی معیشت اور سٹاک ایکسچینجز بیٹھ گئی ہیں یہ اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ ہم نے دو پارلیمانی کمیٹیاں بنائی ہیں، تین اجلاس ہو چکے ہیں، تمام حکومتی اقدامات کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی جاچکی ہے، ملک کے تمام طبقہ متاثر ہو چکے ہیں، مذہبی طبقہ بھی متاثر ہوا۔ پہلے زائرین پھر تبلیغی جماعت کے لوگ متاثر ہوئے۔ ہم نے اس سلسلے میں تمام متعلقہ وزارتوں کو بلا کر بریفنگ دی۔ تبلیغی جماعت پر کمیٹی شہریار آفریدی کی سربراہی میں قائم کی، اس کمیٹی میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے رائے لی گئی اور تمام متعلقہ وزارتوں سے بھی رائے لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کمیٹی میں رائے دھندہ میں تبلیغی جماعت کی 5 رکنی شوریٰ کمیٹی رابطہ میں ہے اس طرح زائرین کے اکابرین رابطہ میں ہیں یہ مسئلہ صرف ضپاکستان کا نہیں پوری دنیا کا ہے ساری دنیا متاثر ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے ایس او پیز بنائے گئے ہیں جس کا ہمیں خیال رکھنا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے سرکاری چینلز کے ذریعے موثر اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام بیرون ملک مقیم پاکستانی استقامت ، حوصلے اور صبر سے کام لیں ہم انہیں وطن واپس لانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ حکومت کے ساتھ تعاون کریں، سول ایوی ایشن کے وزیر کو ہم نے واضح ہدایت کی ہے کہ پروازوں کے حوالے سے حکمت عملی سے آگاہ کریں۔ صحت کے حوالے سے اقدامات کو پارلیمانی کمیٹی دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے حوالے سے مشیر خزانہ ، مشیر تجارت سے بریفنگ لی گئی ہے اس طرح این ڈی ایم اے کی طرف سے بھی کمیٹی کو بریفنگ دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ پوری طرح موثر اور متحرک ہے مگر عالمی سطح پر موجودہ صورتحال میں جو ایس او پیز بنائے گئے ہیں ہمیں ان کا بھی خیال رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا نخواستہ اگر یہ صورتحال مزید بڑھتی ہے تو ہم نے ایک اور کمیٹی بھی بنائی ہے جو تمام قواعد کا جائزہ لے گی کہ آئندہ بجٹ کا عمل ہم نے کس طرح آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی دیگر پارلیمان کی طرح پاکستانی پارلیمنٹ بھی اپنا بھرپور کردارا دا کر ہی ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نوالحق قادری نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ موجودہ صورتحال میں پوری طرح فعال ہے، دستوری اور آئینی کردار سے بڑھ کر سپیکر کا دفتر اور پارلیمنٹ اپنی بھر پور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے بعد یہ واحیات بحث چھڑ گئی تھی کہ کورونا وائرس کی وجہ تبلیغی جماعت اور زائرین ہیں، سپیکر کے اقدام کے بعد یہ بحث حتم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس وقتی ہے مگر اس کے اثرات معاشرے میں دیر تک رہیں گے۔ کورونا وائرس کا کسی مذہب، فرقے یا علاقے سے تعلق نہیں ہے یہ عالمی وباء ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ سے درخواست کی کہ ایسی خبروں اور تجزیوں کی حوصلہ شکنی کریں جن سے معاشرے میں تقسیم کا عنصر جنم لیتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ دینی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں پارلیمانی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ رمضان المبارک اور مساجد کے حوالے سے جو بھی پالیسی بنے گی وہ پورے ملک کیلئے ہوگی اس حوالے سے تمام مذہبی قیادت اور مذہبی پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، علامہ ساجد نقوی سمیت تمام دینی قیادت اور اکابرین کے ساتھ مل کر پالیسی بنائیں گے تاکہ کورونا سے محفوظ رمضان قوم کو دے سکیں۔ اس سلسلے میں ہم تمام علماء کرام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں کیونکہ یہ صرف اسی حکومت کا نہیں ملک کے ہر بچے، بزرگ اور جوان سمیت پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر نے تمام صوبائی حکومت کو وزارت داخلہ کے ذریعے ہدایت کی ہے کہ تمام علماء کرام سے ضلعی سطح پر اس سلسلے میں رابطہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی پاکۖ کی ہدایات اور تعلیمات قیامت تک کیلئے ہیں۔ انہوں نے حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپۖ کی امت کیلئے ہر جگہ پاک ہے اس لئے اپنے گھروں می ہیں عبادات کا اہتمام فرمائیں۔ قومی ادارہ صحت کے ڈی جی ڈاکٹر فہیم اختر نے کہا کہ چین ہمارا ہمسائیہ ملک ہے چین سے ہی اس وباء کا آغاز ہوا جس کے بعد ہم نے جنوری سے ہی تیاریاں شروع کر دیں ،چین نے ہماری مدد کی ہے ہم نے ٹیسٹنگ کٹس منگوائیں اور پاکستان میں ٹیسٹ شروع کر دیئے گئے۔ پہلے ہمارے پاس صرف دو لیبارٹریاں تھیں جہاں یہ ٹیسٹ ہوتے تھے اب 41 لیبارٹریوں میں کورونا کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں دس لیبارٹریاں اور ہیں جو کورونا ٹیسٹنگ میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ آئندہ دو تین دنوں میں کورونا کے روزانہ تیس ہزار ٹیسٹ شروع ہو جائیں گے۔ حکومت نے ہم سے تعاون کیا اور این ڈی ایم اے کے ذریعے وافر مقدار میں ہمیں ٹیسٹنگ کٹس فراہم کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایسے ہی ہم بغیر جانچ پڑتال کے ٹیسٹ شروع کر دیں جس کا ٹیسٹ کرنا ہوتا ہے اس کو ہم ریفر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا رپورٹنگ ٹائم مغرب اور امریکہ سے بہت بہتر ہے جو پاکستانی بیرون ملک سے واپس آرہے ہیں انہیں ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا ہے ان کا ٹیسٹ کرکے چوبیس گھنٹوں میں ڈی سی کو رپورٹ فراہم کر دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دس منٹ میں ٹیسٹ کرنے والی کٹس صرف امریکہ میں ہیں حکومت ہر کسی کا ٹیسٹ کرے تو ٹیسٹوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ وزیر مملکت شہریار آفریدی نے کہا کہ سپیکر کے شکر گزار ہیں جنہوں نے عوام کے کسٹوڈین کے طور پر یہ قدم اٹھایا ہے۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد یہی تھا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں موجود زائرین اور 237 تبلیغی جماعتوں کے لوگوں کو دنیا کے مختلف ممالک سے واپس لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ وازتوں اور فریقین کے ساتھ مل کر سب سے پہلے کمیٹی کے پی او آرز بنائے گئے تاکہ تمام پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی مشکلات کا مداوا کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور چاروں صوبائی حکومتوں کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے 2054 لوگ 35 ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں اس کے علاوہ 400 افغان شہری تبلیغ کے سلسلے میں پاکستان میں ہیں۔ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں ہمارے 727 زائرین بھی موجود ہیں۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ ملک کے مختلف قرنطینہ سنٹرز سے 16 سو سے زائد پاکستانی صحت یاب ہو کر اپنے گھروں میں پہنچ چکے ہیں۔ یو اے ای اور عمان نے ہمارے قیدیوں کو رہاکر دیا ہے۔ یو اے ای ، دوحہ، دوبئی اور بنکاک سے 900 پاکستانی وطن واپس آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کی شوریٰ ، علامہ حسین شاہ نقوی اور زائرین کے اکابرین ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم مل کر پاکستانیوں کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ پاکستانیوں کی تکالیف کا مدوا کریں، ہمیں تحمل ، استقامت اور صبر سے کام لینا ہے۔ وزارت خارجہ نے کرائسسز مینجمنٹ سنٹر قائم کیا ہے جو بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کیلئے 24 گھنٹے کام کر رہا ہے۔








