بیرون ملک پاکستان کے تشخص کو اجاگر کرنے، سیاحت کے فروغ، ریاست اور شہریوں کے درمیان روابط کے فروغ کیلئے اقدامات، وزارت اطلاعات و نشریات کی کارکردگی رپورٹ جاری

اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اگست 2018ءسے 2020ءکی دو سالہ مدت کے دوران وزارت اطلاعات و نشریات نے بیرون ملک پاکستان کے تشخص کو اجاگر کرنے، سیاحت کے فروغ اور قومی سطح پر ریاست اور شہریوں کے درمیان دو طرفہ روابط کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائے جس کا ماضی میں فقدان تھا، تمام ذرائع ابلاغ کے سرکاری اشتہارات کی شفاف اور …

اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اگست 2018ءسے 2020ءکی دو سالہ مدت کے دوران وزارت اطلاعات و نشریات نے بیرون ملک پاکستان کے تشخص کو اجاگر کرنے، سیاحت کے فروغ اور قومی سطح پر ریاست اور شہریوں کے درمیان دو طرفہ روابط کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائے جس کا ماضی میں فقدان تھا، تمام ذرائع ابلاغ کے سرکاری اشتہارات کی شفاف اور منصفانہ تقسیم، ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن (اے پی پی سی) ، پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی)، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی سی) اور ایس آر بی سی کو ڈیجیٹلائز اور جدید خطوط پر استوار کیا گیا، دو سال کے دوران اخبارات، جرائد اور خبر رساں اداروں کی رجسٹریشن کے عمل کو سٹریم لائن کیا گیا، صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کی استعداد کار میں اضافے کیلئے مالی اعانت کو شفاف بنانے کے علاوہ فلمی صنعت کی ترقی اور فروغ اور اشتہاری پالیسی (بشمول ڈیجیٹل میڈیا ایڈورٹائزنگ کے طریقہ کار) کی تشکیل نو کی گئی اور فنکاروں کا ڈیٹا بیس قائم کیا گیا۔ عہد نو، جدوجہد اور کامیابی کے دو سال کی تکمیل کے موقع پر جاری کارکردگی رپورٹ میں مختلف وزارتوں، ڈویژنوں، محکموں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ وزارت اطلاعات و نشریات کی کارکردگی رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست 2016ءسے قبل میڈیا انڈسٹری کی سہولت اور ترقی کیلئے قواعد و ضوابط کا فقدان تھا جسے بہتر بنانے کیلئے موجودہ حکومت نے مختلف پالیسیاں متعارف کرائی ہیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے مختلف شعبوں کو ترقی دینے کیلئے جو اقدامات اٹھائے گئے ان میں ڈیجیٹل میڈیا کا قیام، اشتہاری پالیسی (بشمول ڈیجیٹل میڈیا ایڈورٹائزنگ کے طریقہ کار) کی تشکیل، علاقائی اخبارات کیلئے اشتہاری فریم ورک کی تیاری، فلم پالیسی کا نفاذ، پریس رجسٹرار آفس، آڈٹ بیورو اور سرکولیشن (اے بی سی)، سنٹرل میڈیا لسٹ کی جدت اور تشکیل نو عمل میں لائی گئی۔ پہلی مرتبہ پاکستانی فنکاروں کا ڈیٹا بیس تیار کیا گیا اور انفارمیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مستحق صحافیوں اور صحافتی تنظیموں بالخصوص پریس کلبوں کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے دی جانے والی امدادی رقوم کی تقسیم کے طریقہ کار کو شفاف بنایا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق افریقی ممالک (یوگنڈا، مراکش، کانگو، تنزانیہ، آئیوری کوسٹ، گھانا، روانڈا، تیونس اور جبوتی) کیلئے نئے پریس سیکشن کھولنے کیلئے ”انگیج افریقہ“ کی تجویز پیش کی گئی۔ بیرون ملک پریس سیکشنز کے ذریعے پاکستان کی سیاحت، ثقافت پر مبنی دستاویزی فلمیں، کتب اور جرائد شائع کرائے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رولز آف بزنس 16-17 کے تحت بیرون ملک پریس سیکشن میں سیاحتی مراکز کا قیام لازم قرار دیا گیا ہے جس کے تحت پاکستانی سفارتخانوں میں ثقافتی ڈیسک قائم کئے گئے اور برطانیہ اور پیرس میں خصوصی مراکز بھی قائم کئے گئے۔ پاکستان میں چینی ذرائع ابلاغ کو سہولت فراہم کرنے کیلئے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے صدر دفتر میں خصوصی چائنہ سی پیک ڈیسک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اہم امور پر مشاورت کیلئے مشاورتی فورم قائم کیا گیا تاکہ اہم امور پر ردعمل کی تیاری میں مدد مل سکے۔ فورم میں وزارت اطلاعات و نشریات کے سابق سینئر افسران، سیکرٹریز ، ڈائریکٹر جنرل سیفران، تجارت، خزانہ، سیاحت کے نمائندے، اہم تھنک ٹینک اور سوشل میڈیا کے ماہرین شامل ہیں۔ گزشتہ دو سال کے دوران ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشنز (ڈیمپ) کے اشاعتی شعبہ میں 99 کتب شائع کیں جن میں رائزنگ پاکستان، انڈس فیسز، ماہ نو، منو بھائی، نمبر، فراز نمبر اور حبیب جالب نمبر شامل ہیں۔ فلم ونگ کی طرف سے دو نغمے تیار کئے گئے جن میں ایک ملی نغمہ اور ایک گردوارہ کرتارپور کے حوالے سے تیار کیا گیا جبکہ 12 دستاویزی فلمیں، 3 پرومو اور قومی مواقع کیلئے دو ڈاکومنٹریاں تیار کی گئیں۔ وزارت اطلاعات کے ایگزیبیشن ونگ کی طرف سے تمام قومی مواقع پر پہلی مرتبہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ڈیمپ کی طرف سے نمائشوں کا انعقاد کیا گیا۔ دو سال کے دوران مجموعی طور پر 13 نمائشیں منعقد کی گئیں اور تمام ڈیزائننگ، کارڈز کی تیاری ازخود کی گئی۔ مانیٹرنگ ونگ کی جانب سے اس وقت پچاس سے زائد ٹی وی چینلز کی ڈیمپ کے ذریعے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے جو اس سے قبل صرف 12 چینلز تک محدود تھی جس کے ذریعے قومی خزانے کو 18 ملین روپے حاصل ہوئے۔ سائبر ونگ کی طرف سے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں ڈسکور پاکستان سائبر ونگ کے تحت کیو آر کوڈز بھی منعقد کئے گئے ہیں جس کے ذریعے پاکستان کی خوبصورت سرزمین کے حوالے سے یو آر لنک متعارف کرائے گئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے حو الے سے معلومات کی فراہمی کیلئے نیوز ڈیٹا بینک بھی قائم کیا گیا۔ سائبر نیوز ڈیٹا بینک کے قیام کا مقصد خبر کی شکل میں مصدقہ اور باوثوق معلومات کی ایک کلک کے ذریعے فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ریڈیو پاکستان نے ملک میں کنزیومر ریسیور پر ایف ایم آزمائشی ٹرانسمیشن کیلئے ڈیجیٹل ریڈیو سسٹم (ڈی آر ایم) کامیابی سے متعارف کرایا ہے۔ ایسے اقدام سے پاکستان، روس، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ سے منسلک ہو گیا ہے اور حال ہی میں ایف ایم بینڈ پر ڈی آر ایم کے معیار اور کارکردگی کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی انفارمیشن ٹیکنالوجی ٹیم نے موبائل ایپلیکیشن متعارف کرائی ہے تاکہ اس کے چینلز اور سٹیشنز کے نشریات ریڈیو پاکستان آفیشل پر سنی جا سکیں۔ پی بی سی ویب سائٹ اور ہینڈرائیڈ ایپلیکیشنز پر چینلز کی تعداد 25 تک بڑھ گئی ہے۔ دو سال کے دوران ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے مختلف شعبوں میں جدت کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ پیپر فری انوائرنمنٹ، اسائنمنٹ، خبروں کی منتقلی، ای فائلنگ، اکاﺅنٹ مینجمنٹ، ہیومن ریسورس کے ریکارڈ کے انتظام اور کارکردگی کے جائزے کیلئے سافٹ ویئر سسٹم متعارف کرایا گیا ہے اور عملہ کو جدید آلات فراہم کئے گئے ہیں۔ غیر ضروری ملازمتوں کا خاتمہ، غیر پیداواری سٹیشنز کی بندش کے ساتھ ساتھ نئی مہارت کی حامل ملازمتیں پیدا کی گئی ہیں اور مارکیٹنگ، ڈیجیٹل میڈیا سروسز اور ڈیجیٹل ٹی وی چینل جیسے نئے قائم کئے جانے والے شعبوں میں عملے کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ اے پی پی سی کی کارکردگی اور آمدنی میں 50 فیصد اضافہ ہوا، بجٹ کے نقصانات پر قابو پایا گیا ہے اور ایک ایڈیٹوریل بورڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔ دو سال کے دوران وزارت اطلاعات نے ملک بھر میں اخبارات اور جرائد کی تازہ ترین فزیکل ویری فکیشن کا عمل شروع کیا ہے تاکہ شفافیت اور احتسابی مقاصد کو حاصل کیا جا سکے۔ پریس رجسٹرار آفس کی طرف سے جعلی پیشانی کے 4500 مختلف جرائد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ گزشتہ دو سال میں پیمرا کی طرف سے مختلف لائسنسز جاری کئے گئے جن میں سیٹلائیٹ ٹی وی چینل کے لئے 11، کمرشل ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے لئے 25، نان کمرشل ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے لئے 6، لینڈنگ رائٹس پرمیشن کے لئے 11، پی ٹی وی ڈسٹری بیوشن سروس کے لئے 8، ٹیلی ویژن ناظرین کی تعداد جانچنے کے لئے 5، موبائل ٹی وی کے لئے 2، نیوز کیبل ٹی وی کے لئے 339 لائسنس جاری کئے گئے جبکہ کیبل ٹی وی کے 1060 لائسنسوں کی توثیق کی گئی اور ڈی ٹی ایچ کا ایک لائسنس جاری کیا گیا۔ اس کے علاوہ سنٹرل میڈیا لسٹ کی جدت اور تشکیل نو، پاکستان فوٹو آرکائیوز کی تشکیل، دہائیوں پرانے فوٹو ریکارڈ کو محفوظ بنانے، مختلف شعبوں کے عمومی طریقہ کار کو ای فائلنگ کی طرف منتقل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے جو حکومت کے پیپر فری انوائرمنٹ ویژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ کوویڈ 19 کی فوری معلومات کے لئے جامع ڈیجیٹل پورٹل تیار کیا گیا ہے جس سے عوام، ڈاکٹر، میڈیا پرسنز کو فوری معلومات میسر آئیں گی اور ون ونڈو کے قابل رسائی پلیٹ فارم کے ذریعے حکومتی اقدامات کی پورٹل رسائی http://coronacounter.pid.gov.pk/ فراہم کی گئی ہے۔ تمام پریس کانفرنسز، سرکاری پروگراموں، حکومتی مہمات کی پی آئی ڈی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے براہ راست نشریات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ پی آئی ڈی کی طرف سے دو سال کے دوران 9 ہزار 996 پریس ریلیز، 17 ہزار 797 تصاویر جاری کی گئیں۔ 604 پریس کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا، 358 آرٹیکلز شائع کرائے گئے، 70 وضاحتی بیانات جاری کئے گئے۔ 231 مہمات کے سپلیمنٹ جاری کئے گئے، 230 بڑے میڈیا ایونٹس کا انعقاد کرایا گیا اور 500 سے زائد براہ راست پریس کانفرنسز منعقد کرائی گئیں۔ 94 لاکھ 44 ہزار 485 سینٹی مکعب میٹر سائز کے اشتہارات جاری کئے گئے۔ 4.7 ارب روپے کا اشتہاری کاروبار پیدا کیا گیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پانچ کروڑ 64 لاکھ 45 ہزار 234 افراد نے رسائی حاصل کی۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے گزشتہ دو سال کے دوران اٹھائے گئے اقدامات اور جاری منصوبوں کے اہم خدو خال میں ڈیجیٹل میڈیا ونگ کا قیام، ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کی منظوری، علاقائی اخبارات اور جرائد کے لئے فریم ورک کی تیاری، فلم پالیسی 2018ءکے جائزہ کے لئے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل کے لئے نئے ٹرم آف ریفرنس کی تیاری، پریس رجسٹرار، اے بی سی اور سی ایم ایل میں شفافیت اور مستعدی کو یقینی بنانے کے لئے جدید آن لائن ایپلیکیشن کا اجرائ، فنکاروں اور ان کی مالی اعانت کے لئے باقاعدگی سے پیش رفت کے جائزہ کے لئے ڈیٹا بیس کی تشکیل، نومبر 2018ءمیں انفارمیشن کمیشن کا قیام اور معلومات تک رسائی کے ایکٹ 2017ءکے تحت قوانین کا نفاذ شامل ہیں، 2018ءاور 2019ءمیں بولی کے ذریعے 79 سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو لائسنس جاری کئے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگاہی اور رسائی کے لئے جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں ان میں اے پی پی سی، سائبر ونگ، ای پی ونگ، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن اور سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات فراہمی شامل ہے۔ فیس بک کے فالوورز کی تعداد 3.4 ملین، ٹوئٹر کے فالوورز کی تعداد 2.5 ملین، انسٹا گرام 900K تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت اطلاعات کی طرف سے مختلف اہم قومی مواقعوں اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لئے مختلف سیمینارز اور پروگراموں کا انعقاد بھی کرایا گیا ہے جبکہ خواتین صحافیوں کو با اختیار بنانے کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا گیا۔ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے تشدد سے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ کشمیر زیر محاصرہ سیمینار، پینل مباحثہ کا اہتمام بھی کیا گیا تاکہ قومی سطح پر کشمیری عوام کے لئے یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں سول سرونٹس کی میڈیا انگیج منٹ کے لئے چار ہفتوں پرمشمتل تربیتی ورکشاپ کا انعقاد سول سروسز اکیڈمی میں کیا گیا۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے پرنٹ، الیکٹرانک، سوشل اور میڈیا کے دیگر ذرائع کے بارے میں ایڈورٹائزمنٹ کی پالیسی کی تیاری، ایڈورٹائزمنٹ کے نرخوں کے طریقہ کار اور ایس او پیز کا کام مکمل کیا گیا ہے۔ اسی طرح لیجیسلیٹو پالیسی فریم ورک کے تحت صحافیوں کے تحفظ اور سلامتی و فلاح و بہبود کا بل 2020ءتیاری کے مراحل میں ہے جس کے حوالے سے لاءاینڈ جسٹس ڈویژن سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔ صحافیوں اور صحافتی تنظیموں /پریس کلبز کی مالی معاونت کے طریقہ کار اور ایس او پیز کی تیاری، پاکستان براڈ کاسٹنگ (ترمیمی) بل، اے پی پی سی (ترمیمی) بل، پی سی پی (ترمیمی) بل، موشن پکچر آرڈیننس (ترمیمی) بل، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل، اخبارات، پریس، نیوز ایجنسیوں اور کتابوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے (ترمیمی) بل سمیت دیگر مختلف بلز پر کام جاری ہے۔

مزید خبریں