بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور اوورسیز پاکستانی فائونڈیشن کے مابین بینظیر ہنر مند پروگرام کے تحت الیکٹرانک گاڑیوں کے مکینکوں کی تربیت کیلئے شراکت داری پر اتفاق

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد سے منگل کو اوورسیز پاکستانی فائونڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد افضال بھٹی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بی آئی ایس پی مستحقین کو نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں کی مرمت و دیکھ بھال کی تربیت فراہم کرنے اور بینظیر ہنر مند پروگرام کے تحت انہیں بیرون ملک روزگار سے منسلک کرنے پر تبادلہ خیال …

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد سے منگل کو اوورسیز پاکستانی فائونڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد افضال بھٹی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بی آئی ایس پی مستحقین کو نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں کی مرمت و دیکھ بھال کی تربیت فراہم کرنے اور بینظیر ہنر مند پروگرام کے تحت انہیں بیرون ملک روزگار سے منسلک کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سینیٹر روبینہ خالد نے منیجنگ ڈائریکٹر او پی ایف کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے حال ہی میں شروع کیے گئے بینظیر ہنرمند پروگرام کے بنیادی مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد بی آئی ایس پی کے مستحق خاندانوں کو مارکیٹ سے ہم آہنگ جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے وزارت اوورسیز پاکستانی، نیوٹیک اور صوبائی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوشنز کے ساتھ مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں تاکہ ڈیمانڈ کے مطابق پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا سکے اور تربیت یافتہ نوجوانوں کو صنعتوں سے منسلک کر کے ان کی ملازمت کو یقینی بنایا جا سکے۔ایم ڈی او پی ایف محمد افضال بھٹی نے بی آئی ایس پی کے وژن اور مہارت پر مبنی معاشی بااختیاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ او پی ایف بورڈ پہلے ہی دو الیکٹرانک گاڑیوں کے مکینکوں کیلئے تربیتی سینٹرز کے قیام کی منظوری دے چکا ہے۔

انہوں نے پیشکش کی کہ بینظیر ہنرمند پورٹل پر رجسٹرڈ بی آئی ایس پی مستفیدین کو ان مراکز میں خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ او پی ایف مستحقین اور ان کے اہلِ خانہ کو تصدیق شدہ الیکٹرانک گاڑیوں کے مکینک کے طور پر تیار کرنے میں مکمل تعاون فراہم کرے گا، جن کی مہارتوں کی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں طلب متوقع ہے۔اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے عالمی منڈی میں اس سیکٹر کے لیے ہنر مند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی افرادی قوت سکل اپ گریڈیشن اور بین الاقوامی روزگار تک بہتر رسائی کے ذریعے نمایاں فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی افرادی قوت کی رہنمائی، تربیت اور انہیں صحیح مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ سکل ڈویلپمنٹ موجودہ معاشی چیلنجز کا پائیدار حل ہے۔