تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے،عاطف اکرام شیخ

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی)کے صدر عاطف اکرام شیخ نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی و ملکی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کاروباری برادری کےلئے شدید تشویش کا باعث ہے۔ بدھ کو جاری بیان میں عاطف اکرام …

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی)کے صدر عاطف اکرام شیخ نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی و ملکی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کاروباری برادری کےلئے شدید تشویش کا باعث ہے۔

بدھ کو جاری بیان میں عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنا عالمی معیشت کےلئے خطرے کی گھنٹی ہے، عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں ملکی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی توانائی ملکی صنعت کی پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے جس سے پاکستانی مصنوعات کی برآمدی مسابقتی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تجارت، شپنگ اور انشورنس لاگت میں اضافہ کا امکان ہے جبکہ سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی عالمی معیشت کےلئے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں، امریکا ایران کشیدگی اور یمن کی صورتحال کے باعث عالمی تجارت اور سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں جس کے اثرات ترقی پذیر معیشتوں پر زیادہ شدت سے مرتب ہوں گے ، برآمدات میں اضافہ اور درآمدی انحصار میں کمی کےلئے نجی شعبے کو مزید سہولتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ توانائی بحران اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کےلئے حکومت اور بزنس کمیونٹی کو مل کر جامع حکمت عملی تشکیل دینا ہو گی، موجودہ صورتحال میں پاکستان کےلئے معاشی استحکام، کاروباری تسلسل اور صنعت و تجارت کےلئے سازگار ماحول اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث کاروباری برادری کو درپیش نئے معاشی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کےلئے ضروری ہے، تمام فریق کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کےلئے تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں۔

مزید خبریں