بینک دولتِ پاکستان نے نو عمر افراد (ٹین ایجرز) کے اکاؤنٹس کے لئے نیا فریم ورک متعارف کرا دیا

بینک دولتِ پاکستان نے نوجوان نسل میں مالی سمجھ بوجھ بڑھانے کی غرض سے نو عمر افراد (ٹین ایجرز) کے اکاؤنٹس کے لئے ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے جس کی مدد سے وہ انفرادی بینک اکاؤنٹ اور ڈیجیٹل والٹ کی ملکیت کے حامل اور استعمال کے مجاز ہوں گے۔

اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):بینک دولتِ پاکستان نے نوجوان نسل میں مالی سمجھ بوجھ بڑھانے کی غرض سے نو عمر افراد (ٹین ایجرز) کے اکاؤنٹس کے لئے ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے جس کی مدد سے وہ انفرادی بینک اکاؤنٹ اور ڈیجیٹل والٹ کی ملکیت کے حامل اور استعمال کے مجاز ہوں گے۔سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس فریم ورک کا مقصد ملک کے نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے بچتیں رکھ سکیں، اعتماد کے ساتھ لین دین کرسکیں اور ذمہ دارانہ مالی عادات اپناسکیں۔ سٹیٹ بینک نوعمروں کو ابتدائی عمر میں رسمی مالی نظام میں باآسانی داخلے کی سہولت فراہم کرکے ان کی معیشت میں بامعنی شرکت یقینی بنانے کا خواہاں ہے۔اس اقدام سے پاکستان کے مالی منظرنامے میں ایک اہم خلا ء پُر ہوگیا ہے۔ اگرچہ اکاؤنٹس کی مجموعی ملکیت بالغ آبادی کے 67 فیصد تک پہنچ چکی ہے تاہم نوعمر افراد زیادہ تر مشترکہ یا والدین کی سرپرستی والے اکاؤنٹس تک محدود رہے ہیں جس نے ان کی مالی سرگرمیوں اور سیکھنے کی صلاحیت کو عملی طور پر محدود کردیا ہے۔

پاکستان میں13 سے 18 سال کے درمیان نوعمرافراد کی تعداد تقریباً 26 ملین ہے، یہ فریم ورک مالی طور پرخواندہ، ڈجیٹل اعتبار سے ماہر اور مستقبل میں ترقی کی نئی منازل طے کرنے کی صلاحیت کی حامل نسل پروان چڑھانے کی جانب ایک قدم ہے۔اس نئے فریم روک کی نمایاں خصوصیات میں ملکیت اور خود مختارانہ استعمال: نوعمر افراد اب اپنے اکاؤنٹس اور والٹس کا انتظام خود چلا سکتے ہیں جس سے ان میں ذمہ داری اور ملکیت کا احساس فروغ پاتا ہے، محفوظ اور منظم رسائی چونکہ یہ فریم ورک ایک ریگولیٹڈ ماحول میں تشکیل دیا گیا ہے لہٰذا یہ نوجوان صارفین کو باضابطہ مالی خدمات سے متعارف کراتے ہوئے ان کے تحفظ کو بھی یقینی بناتا ہے، ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد: مذکورہ فریم ورک نوجوانوں کو ایسے آلات اور تجربہ فراہم کرتا ہے جو انہیں تیزی سے فروغ پاتے ڈیجیٹل مالی نظام میں موثر شراکت داری کے قابل بناتا ہے ، شامل ہیں۔

یہ اقدام سٹیٹ بینک کے سٹریٹجک پلان2023-28ء اور مالی شمولیت کی قومی حکمتِ عملی (این ایف آئی ایس) 2024-28ء کا ایک اہم ستون ہے جن میں نوجوانوں کی شمولیت کو ترجیح دی گئی ہے۔ مزید برآں یہ پاکستان کی اس شعبے میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ کاوشوں کو بھی تقویت دیتا ہے جس کی ایک مثال گذشتہ سال اسٹیٹ بینک کو اے ایف آئی گلوبل یوتھ فنانشل انکلوژن ایوارڈ سے نوازا جانا ہے۔ٹین ایجرز اکاؤنٹ فریم ورک محض ایک نیا بینکاری پروڈکٹ نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ شمولیتی مالی نظام کی جانب ایک سٹریٹجک قدم ہے۔ نوعمر افراد کو بااختیار بنا کر پاکستان ایک مضبوط اور مالی طور پر خواندہ نوجوان نسل کی تشکیل کر رہا ہے جو بینکوں اور مالی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ مختلف مالی خدمات تک آزادانہ اور موثر رسائی کی صلاحیت رکھتی ہو۔