ینگون ۔ 16 نومبر (اے پی پی) بین الاقوامی فوجداری عدالت '' آئی سی سی '' کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کر رہی ہے کہ جب روہنگیا مسلمانوں کو میانمار سے فرار ہونے پر مجبور کیا گیا تھا آیا اْس وقت ان کے خلاف انسانیت سوز جرائم کیے گئے تھے کہ نہیں۔آئی سی سی کا کہنا ہے کہ عوامل منظم انداز میں پْرتشدد کارروائیاں کیے جانے کا اشارہ دیتے …
بین الاقوامی فوجداری عدالت کی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انسانی جرائم بارے تحقیقات

مزید خبریں
ینگون ۔ 16 نومبر (اے پی پی) بین الاقوامی فوجداری عدالت ” آئی سی سی ” کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کر رہی ہے کہ جب روہنگیا مسلمانوں کو میانمار سے فرار ہونے پر مجبور کیا گیا تھا آیا اْس وقت ان کے خلاف انسانیت سوز جرائم کیے گئے تھے کہ نہیں۔آئی سی سی کا کہنا ہے کہ عوامل منظم انداز میں پْرتشدد کارروائیاں کیے جانے کا اشارہ دیتے ہیں،عدالت اس معاملے سے متعلق بہت احتیاط سے پیشرفت کر رہی ہے کیونکہ جس معاہدے کے تحت یہ عدالت بنی میانمار اس کا دستخط کنندہ نہیں ہے تاہم عدالت اس موقف پر قائم ہے کہ معاملہ اس کے دائرہ اختیار میں ہے کیونکہ روہنگیا افراد فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچے جو مذکورہ معاہدے کا رکن ہے۔








