بین الاقوامی کانفرنس ’’جامع اور مستحکم معاشی خودمختاری و ترقی 2026‘‘ 12 ممالک کے مندوبین اور ایک ہزار سے زائد شرکا کی شرکت کے ساتھ اختتام پذیر

بین الاقوامی کانفرنس ’’جامع اور مستحکم معاشی خودمختاری و ترقی 2026‘‘ 12 ممالک کے مندوبین اور ایک ہزار سے زائد شرکا کی شرکت کے ساتھ اختتام پذیر

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):’’جامع اور مستحکم معاشی خودمختاری و ترقی 2026‘‘ کے موضوع پر یہاں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بدھ کو 12 ممالک کے مندوبین اور ایک ہزار سے زائد شرکا کی شرکت کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں غربت کی تمام اقسام اور جہتوں کے خاتمے کے لیے مربوط قومی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانفرنس میں سیاسی و انتظامی قیادت، بین الاقوامی ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور کمیونٹی نمائندوں نے شرکت کی اور جامع اقتصادی ترقی، پائیدار ذرائع معاش اور مستحکم معاشروں کے قیام کے لیے قابل عمل اقدامات پر غور کیا۔

پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ نے وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ، وزارت قومی ورثہ و ثقافت، سینٹر آف نیشنل کوہیشن اینڈ آئوٹ ریچ اور پیغام پاکستان کے اشتراک سے کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کا مقصد پاکستان میں غربت کے خاتمے کی کوششوں کو موثر بنانے اور مستحق گھرانوں کو مستقل معاشی خودمختاری کی جانب گامزن کرنے کے طریقوں کا جائزہ لینا تھا۔ شرکا نے قلیل مدتی امداد سے آگے بڑھتے ہوئے ایسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جن میں سماجی تحفظ کے ساتھ ہنر مندی، پیداواری اثاثوں، مالی وسائل، منڈیوں تک رسائی، کاروباری ترقی اور کمیونٹی کی سطح پر شروع کیے جانے والے منصوبوں کو یکجا کیا جائے۔ اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ غربت سے نکلنے والے خاندان معاشی اور موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے دوبارہ غربت کا شکار ہونے سے محفوظ رہ سکیں۔

کانفرنس کے اعلامیہ میں قومی سطح پر غربت سے مستقل نجات کی پالیسی وضع کرنے اور ایسے واضح راستے متعین کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا جن کے ذریعے گھرانے نقد امداد اور دیگر معاونت سے نکل کر پائیدار ذرائع معاش اختیار کر سکیں۔ اس کے علاوہ کمیونٹی اداروں کے کردار کو مضبوط بنانے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے مالی وسائل اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے، خواتین اور نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھانے، روزگار و کاروبار کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافے کی سفارش کی گئی۔پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بارچ نے کانفرنس کی مثبت پیش رفت کو برقرار رکھنے اور مباحثوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کو باقاعدہ پلیٹ فارم کی شکل دینے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے، شراکت داریوں کو مضبوط بنایا جا سکے اور اس عزم کی تجدید کی جا سکے کہ لوگوں کو نہ صرف غربت سے نکالا جائے بلکہ انہیں غربت سے باہر رہتے ہوئے محفوظ، پیداواری اور باوقار زندگی گزارنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔کانفرنس میں چھ موضوعاتی پینل مباحثے منعقد ہوئے جن میں غربت سے پائیدار نجات اور ذرائع معاش، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی اور ویلیو ایڈیشن، ماحول دوست اقتصادی ترقی، نوجوانوں کی معاشی خودمختاری، مالی رسائی و شمولیت اور قومی ہم آہنگی کے فروغ میں ثقافتی معیشت کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔

مباحثوں میں اس امر پر غور کیا گیا کہ حکومتی پالیسی، ترقیاتی مالی معاونت، نجی شعبے کی شمولیت اور کمیونٹی کی قیادت میں جاری اقدامات باہمی تعاون کے ذریعے معاشی مواقع بڑھانے اور غربت میں پائیدار کمی لانے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خاں کی شرکت سے منعقدہ نوجوانوں کی معاشی خودمختاری کے سیشن میں نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھانے اور معاشرے کے محروم، پسماندہ اور نظرانداز کیے گئے طبقات کو اقتصادی ترقی کے عمل میں شامل کرنے پر توجہ دی گئی۔ رانا مشہود احمد خاں نے کہا کہ رضاکارانہ خدمات کے فروغ اور معاشرے کے محروم، پسماندہ اور نظرانداز طبقات کی ترقی کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا، خواہ کتنی ہی سرمایہ کاری کیوں نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان طبقات کو بھی مقابلے کے لیے وہی مواقع اور وسائل فراہم کرنا ضروری ہے جو پہلے سے سہولتوں تک رسائی رکھنے والے افراد کو میسر ہیں، بصورت دیگر معاشرتی خلیج مزید وسیع ہوتی رہے گی۔کانفرنس میں پی پی اے ایف کی موسمیاتی تبدیلی اور ماحول دوست ترقی کی حکمت عملی 2025-2030 کا اجراء بھی شامل تھا۔ اس حکمت عملی میں غربت کے پائیدار خاتمے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت اور ان کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانا، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے، ماحول دوست اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور ایسے ذرائع معاش کے لیے ضروری صلاحیتیں پیدا کرنا ہے جو موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کر سکیں اور خوشحال معاشروں کی بنیاد بنیں۔

کانفرنس میں کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے معاشی مواقع پیدا کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ پاکستان کے تمام صوبوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی نمائشوں میں مقامی ہنر، کاروباری صلاحیت اور پیداواری سرگرمیوں کی عکاسی کرنے والی مصنوعات پیش کی گئیں۔ نمائشوں نے ذرائع معاش کی ترقی، معاشی سرگرمیوں میں شمولیت اور پیداواری اداروں کو منڈیوں سے منسلک کرنے میں چھوٹے کاروباروں اور کمیونٹی کی سطح پر قائم اداروں کے کردار کو نمایاں کیا۔پروگرام کے دوران چندنی جوشی کی کتاب ’’ویونگ مائی سائوتھ ایشین ٹیپسٹری‘‘ کی پاکستان میں تقریبِ رونمائی بھی منعقد ہوئی۔ مصنفہ نے کتاب کا تعارف پیش کیا اور اس کا ایک باب پڑھ کر سنایا۔

انہوں نے جنوبی ایشیا میں خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور ترقی کے شعبوں میں کئی دہائیوں پر محیط اپنے تجربات اور مشاہدات بھی بیان کیے۔پی پی اے ایف اور سینٹر آف نیشنل کوہیشن اینڈ آئوٹ ریچ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے جس میں معاشی خودمختاری کو سماجی شمولیت، کمیونٹی کی شراکت اور قومی ہم آہنگی سے مربوط کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس شراکت داری کا مقصد معاشروں کو مضبوط بنانے اور زیادہ جامع و ہم آہنگ معاشرے کے قیام کے لیے باہمی تعاون کے امکانات کو فروغ دینا ہے۔

کانفرنس میں دخترانِ پاکستان ایکسی لینس ایوارڈز کے ذریعے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کی کامیابیوں کا اعتراف کیا گیا اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں خواتین کی بھرپور شرکت کے لیے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے تقریب کی صدارت کی جبکہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے ایوارڈز تقسیم کیے۔وجیہہ قمر نے کہا کہ کسی قوم کی قدر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو کتنے مواقع فراہم کرتی ہے اور ان مواقع کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کس طرح سراہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طاقت اس کی بیٹیوں میں بھی اسی طرح مضمر ہے جس طرح اس کے بیٹوں میں۔ خواتین محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود اپنی صلاحیتیں ثابت کر چکی ہیں، اگر انہیں تعلیم، مالی وسائل، ہنر، محفوظ کام کی جگہیں اور فیصلہ سازی میں موثر آواز فراہم کی جائے تو وہ مزید نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے غربت سے نمٹنے اور معاشی خودمختاری کے پائیدار راستے پیدا کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس حکومت کے اسی عزم کی عملی عکاسی کرتی ہے جس کے ذریعے سیاسی و انتظامی قیادت، بین الاقوامی ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور نچلی سطح پر کام کرنے والے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا تاکہ پالیسیوں کو عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنایا جا سکے۔اختتامی خطاب میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے زور دیا کہ کانفرنس کی سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے اور غربت سے مستقل نجات کی کامیابی کو لوگوں کی زندگیوں میں دیرپا بہتری کی بنیاد پر جانچا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ریاست کے نمائندے کی حیثیت سے اس بات کی یقین دہانی کرانے آئے ہیں کہ حکومت پاکستان کانفرنس کی آواز سن رہی ہے، اس کی سفارشات کو اہمیت دیتی ہے اور پاکستان کو درپیش موجودہ مشکلات و وسائل کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ان سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی خاندان کو غربت سے نکالنا صرف پہلا قدم ہے، اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ خاندان اپنے ذرائع معاش کو مستحکم بنا سکے، مشکلات اور غیرمتوقع حالات کا مقابلہ کرے اور دوبارہ غربت کا شکار نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے سماجی تحفظ، ہنر مندی، پیداواری اثاثوں، مالی وسائل، منڈیوں تک رسائی اور مضبوط کمیونٹیز کو باہم مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔

کانفرنس کے دوسرے روز یوتھ ایکسی لینس اور میڈیا ایکسی لینس ایوارڈز بھی دیئے گئے۔ انڈیپینڈنٹ نیوز سے سحرش قریشی جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) سے سید فواد علی کاظمی کو ایوارڈ دیئے گئے۔کانفرنس کا اختتام اعلامیہ میں طے کردہ ترجیحات پر عمل درآمد، شراکت داریوں کو مضبوط بنانے، مربوط اقدامات اور غربت کے مستقل خاتمے کے لیے مسلسل عزم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہوا۔ کانفرنس کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ پائیدار ترقی کے لیے خاندانوں کو صرف خط غربت سے اوپر لانا کافی نہیں، بلکہ انہیں پیداواری ذرائع معاش، معاشی مواقع تک رسائی، غیرمتوقع حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور باوقار و محفوظ مستقبل کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔