گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بیوٹمز یونیورسٹی "کلائمیٹ چینج” پر انٹرنیشنل سیمینار کی میزبانی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک گلوبل چیلنج نہیں ہے بلکہ یہ انسانیت کی بقاء اور ارتقاء کا معاملہ ہے
بیوٹمز یونیورسٹی "کلائمیٹ چینج” پر انٹرنیشنل سیمینار کی میزبانی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جعفر خان مندوخیل

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 02 جولائی (اے پی پی):گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بیوٹمز یونیورسٹی "کلائمیٹ چینج” پر انٹرنیشنل سیمینار کی میزبانی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک گلوبل چیلنج نہیں ہے بلکہ یہ انسانیت کی بقاء اور ارتقاء کا معاملہ ہے۔ ہم انہیں ایکو سسٹم کی بحالی پر اقوام متحدہ کے عشرے 2021 تا 2030 سے بھی مربوط کرینگے تاکہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کے علاوہ متعلقہ مایہ ناز سائنسدان اور ماہرین بھی اس میں حصہ لے سکیں۔ گویا یہ تعاون پوری انسانیت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ بہت جلد ہم کوئٹہ شہر میں کلائمیٹ چینج اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر بین الاقوامی سیمینار اور کانفرنس کے انعقاد کی خوشخبری دیں گے۔ سرکاری یونیورسٹیوں کو اپنے عوام کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور بین الاقوامی سطح پر انسانی بقاء کیلئے کچھ کنٹری بیوٹ کرنے کا اہل بنانا واقعی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ اس وقت پاکستان میں قومی و صوبائی دونوں سطحوں پر ہمیں ایک تلخ حقیقت کا سامنا ہے کہ ہمارے پروفیشنل اور تعلیم یافتہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
لیکن ہم ملازمت کے مواقع اس بڑھتی ہوئی تعداد کے مطابق نہیں بڑھا سکتے جو کہ واقعی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہم حکومتی سطح پر ان تمام روشن ذہنوں کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے کون سے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں اور ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو کس طرح مضبوط کر سکتے ہیں تاکہ ہم ایک پائیدار حل ڈھونڈ سکیں اور اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ کوئی تعلیم یافتہ نوجوان یا پروفیشنل ڈگری ہولڈر معاشی طور پر دوسروں کا محتاج نہ رہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہمیں اپنی پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے طلباء کو تیزی سے ترقی کرنے والی دنیا کیلئے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ہم بیوٹمزیونیورسٹی ژوب کیمپس کے طلباکو وزیراعظم پاکستان لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت لیپ ٹاپس فراہم کرنے جا رہے ہیں تاکہ وہ بھی قومی اور بین الاقوامی دونوں میدانوں میں جدت کاری اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے ذریعے اپنے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرکے اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ماہرانہ رہنمائی فراہم کرکے ہم آج اپنے فیوچر روڈ میپ میں ان دانشمندانہ منصوبہ بندی اور ٹھوس عملی اقدامات کے ساتھ آغاز کرنے جا رہے ہیں۔
گورنر مندوخیل نے کہا کہ بیوٹمزیونیورسٹی بنیادی طور پر سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز کی یونیورسٹی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ بیوٹمز نہ صرف اپنا امتیاز برقرار رکھے بلکہ موجودہ جاب مارکیٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے تعلیمی نصاب میں صرف متعلقہ مضامین جیسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیٹا سائنسز، میتھمیٹکس ودھ مشین لرننگ، روبوٹکس اینڈ انٹیلیجنس سسٹم وغیرہ کو ہی شامل کرے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور ان کی پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ متعدد سنگ میل عبور کرنے کے باوجود اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔







