بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران 1.492 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ ڈاکٹر عبید اللہ ملک کی بریفنگ

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبید اللہ ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں منعقدہ بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران 1.492 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔

اسلام آباد۔18جولائی (اے پی پی):ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبید اللہ ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں منعقدہ بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران 1.492 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔

ہفتہ کو یہاں منعقدہ پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کی اختتامی تقریب کے شرکاء کو بریفنگ کے دوران سی ای او ڈریپ نے بتایا کہ کانفرنس میں اے پی آئی مینوفیکچرنگ، ویکسین بائیوٹیکنالوجی، جینیرک فارمولیشن، میڈیکل ڈیوائسز، پی سی ایم اور کلینیکل ٹرائلز سمیت چھ شعبوں پر توجہ دی گئی، دونوں ممالک کے رہنما ئوں کے درمیان گزشتہ تین ماہ کے دوران مسلسل رابطے رہے جبکہ آخری 20 روز میں 30 ورچوئل بی ٹو بی اجلاس منعقد کیے گئے جن میں پاکستان کی 100 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی، ان بی ٹو بی اجلاسوں کا مقصد دونوں ممالک کی کمپنیوں کو ایک دوسرے سے متعارف کرانا، ان کی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا اور ممکنہ تجارتی معاہدوں کی راہ ہموار کرنا تھا۔

انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے کانفرنس کا افتتاح کیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اس مرتبہ صرف مفاہمتی یادداشتوں کے بجائے عملی تجارتی معاہدوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔اعداد و شمار کے مطابق 22 معاہدوں میں اے پی آئی مینوفیکچرنگ کے 2، کلینیکل کے 2، بائیوٹیکنالوجی کے 6، جینیرک فارمولیشن کے 2اور میڈیکل ڈیوائسز کے شعبے کے 10 معاہدے شامل ہیں ، توقع ہے کہ بعض معاہدوں پر جلد عملدرآمد شروع ہو جائے گا جبکہ عملدرآمد کی زیادہ سے زیادہ مدت تین سال ہوگی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 42 مفاہمتی یادداشتوں پر بھی اتفاق کیا گیا ہے اور معاہدوں و ایم او یوز کی مجموعی مالیت تقریباً 1.492 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے۔اس موقع پر چینی وفد کو پاکستان کے ریگولیٹری نظام، کاروباری مواقع اور ڈریپ کے بین الاقوامی اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ بریفنگ کے مطابق کانفرنس کے بعد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک ایگزیکیوشن ڈیش بورڈ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کی متعلقہ کمپنیاں اور ادارے پیش رفت کا مسلسل جائزہ لے سکیں۔

بریفنگ کے اختتام پر بتایا گیا کہ اس کانفرنس کے تمام اخراجات حکومت پاکستان نے برداشت کیے ہیں اور کسی بھی کمپنی سے مالی تعاون نہیں لیا گیا کیونکہ حکومت کا مقصد سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو فروغ دینا ہے۔

مزید خبریں