پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس اختتام پذیر، 1.492 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس اختتام پذیر، 1.492 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جولائی (اے پی پی):پاکستان۔ چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس ہفتہ کو اختتام پذیر ہو گئی ۔ کانفرنس کے دوران 1.492 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے جبکہ کانفرنس میں شریک چینی اور مقامی کمپنیوں کے نمائندوں نے دونوں ممالک کے تعاون سے جدید طبی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور چین کی میڈیکل ٹیکنالوجی کمپنی نے پیدائشی نقائص اور موروثی بیماریوں کی روک تھام کے لیے جدید طبی ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور مستقبل میں ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔
اختتامی تقریب میں وزیر مملکت صحت مختار احمد بھرتھ، وفاقی سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری ، سیکرٹری صحت بلوچستان، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ، چینی سفیر، 150 سے زائد چینی وفود اور پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے 300 کے قریب رہنمائوں نے شرکت کی۔وزیر مملکت مختار احمد بھرتھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے اس کانفرنس کا آغاز کیا تو وزیراعظم پاکستان کی قیادت میں ہم نے وعدہ کیا کہ یہ کانفرنس صرف رسمی تقاریر یا سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا مرکز عملی اقدامات ہوں گے اور آج کے نتائج اس وعدے کی تکمیل کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کو یاد رکھے گی کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صحت کے شعبے میں تجارتی اور تزویراتی اعتبار سے اتنا بڑا اتحاد قائم ہوا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ یہ کانفرنس سی پیک فیز ٹو کے عملی خدوخال کی بہترین مثال بن گئی ہے، اب ہمارا تعاون صرف سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ صحت کی معیشت، انسانی جانوں کے تحفظ اور جدید طبی صنعت کی ترقی تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران دونوں ممالک کے صنعتی رہنماؤں نے خطے میں صحت کے شعبے کے تعاون کو ایک نئی سمت دی ہے اور کانفرنس میں 850 ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی تجارتی شراکت داریوں کو حتمی شکل دی گئی، ان معاہدوں میں سیل لائن ڈویلپمنٹ، جدید بائیوٹیکنالوجی انجکشن کی مشترکہ پیداوار، اے پی آئی مینوفیکچرنگ، میڈیکل ڈیوائسز کی مقامی تیاری اور کلینیکل ٹرائلز جیسے منصوبے شامل ہیں۔
مزید برآں 18 مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے گئے جن کی مالیت 250 ملین امریکی ڈالر ہے، ان مفاہمتی یادداشتوں کا مقصد صنعتی توسیع، علاج کے شعبے میں تعاون اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری محض اعلانات نہیں بلکہ عملی منصوبوں کے آغاز کی علامت ہے، جو پاکستان میں جدید طبی صنعت اور مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیر مملکت نے حکومت پاکستان کی جانب سے چین سے آنے والے 150 سے زائد ماہرین اور پاکستان میں چین کے سفیر ژانگ ژیڈونگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اعتماد، سائنسی مہارت اور طویل المدتی شراکت داری کے عزم نے اس کامیابی کو ممکن بنایا، چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پاکستان کو خطے میں طبی مصنوعات کی تیاری اور برآمدات کا اہم مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے پاکستانی فارماسیوٹیکل صنعت کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقامی صنعت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ روایتی ادویہ سازی سے آگے بڑھ کر عالمی معیار کی ہائی ٹیک صنعت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ ریگولیٹری منظوری، پلانٹس کے لائسنس، اراضی کی فراہمی اور رجسٹریشن سمیت تمام امور کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی نگرانی میں ترجیحی بنیادوں پر اور بلا تاخیر مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے چینی شرکاء کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ اس کانفرنس کے بعد فوری طور پر اپنے منصوبوں پر عملدرآمد شروع کریں تاکہ اس تاریخی تعاون کو ایک صحت مند، خود کفیل اور خوشحال مستقبل میں تبدیل کیا جا سکے۔اس سے پہلے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبید اللہ ملک نے شرکاء کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ کانفرنس میں اے پی آئی مینوفیکچرنگ، ویکسین بائیوٹیکنالوجی، جینیرک فارمولیشن، میڈیکل ڈیوائسز، پی سی ایم اور کلینیکل ٹرائلز سمیت چھ شعبوں پر توجہ دی گئی۔
ڈاکٹر عبیداللہ ملک نے کہا کہ دو روزہ کانفرنس میں دونوں ممالک کے متعلقہ شعبوں کے درمیان 22 معاہدوں پر دستخط کئے گئے جن میں اے پی آئی مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں 35 ملین ڈالر مالیت کے دو،بائیو ٹیکنالوجی اینڈ ویکسین کے شعبہ میں 360 ملین ڈالر مالیت کے چھ، کلینکل ٹرائلز اینڈ کلینکل ریسرچ کے شعبہ میں 8 ملین ڈالر مالیت کے دو، جینیریک فارمولیشنز میں 19 ملین ڈالر مالیت کےدو اور میڈیکل ڈیوائسز کے شعبہ میں 201.5 ملین ڈالر مالیت کے دس معاہدے شامل ہیں۔ کانفرنس میں 216.7 ملین ڈالر مالیت کی 42 مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے گئے جس میں اے پی آئی مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں 74 ملین ڈالر مالیت کی بارہ، بائیوٹیکنالوجی اینڈ ویکسین کے شعبہ میں 104.05 ملین ڈالر مالیت کی نو، کلینکل ٹرائلز اینڈ کلینکل ریسرچ کے شعبہ میں دو، جینیریک فارمولیشنز میں 10 ملین ڈالر مالیت کی دو، میڈیکل ڈیوائسز کے شعبہ میں 14.5 ملین ڈالر مالیت کی آٹھ اور ہربل میڈیسن کے شعبہ میں 14.17 ملین ڈالر مالیت کی نو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔
سی ای او ڈریپ نے مزید کہا کہ دو روزہ کانفرنس میں مجموعی طور پر 1.492ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں ۔وفاقی سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی سرگرمیاں محض ملاقاتیں اور مذاکرات نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان صحت، فارماسیوٹیکل اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں اعتماد اور مشترکہ عزم کا مظہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدت اور ویلیو ایڈیشن کو دوطرفہ تعلقات کا اہم محور بنایا گیا ہے جبکہ وزارت صحت اور متعلقہ ادارے سرمایہ کاروں کے لیے شفاف اور مؤثر ریگولیٹری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔وفاقی سیکرٹری صحت کے مطابق کانفرنس کے دوران ابتدائی طور پر تقریباً 850 ملین امریکی ڈالر مالیت کی شراکت داریوں پر اتفاق ہوا تاہم بعد ازاں یہ حجم 1.4ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے حالیہ برسوں میں ڈیجیٹلائزیشن، خودکار نظام اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی سمیت متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہو، ہم ایسا جدید ریگولیٹری نظام تشکیل دے رہے ہیں جو جدت کی حوصلہ افزائی کرے اور ساتھ ہی معیار، حفاظت اور عوامی صحت کو یقینی بنائے۔وفاقی سیکرٹری صحت نے کہا کہ کانفرنس کی کامیابی کا اصل معیار معاہدوں کی تعداد نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ادویات کی مقامی پیداوار، روزگار کے نئے مواقع اور دونوں ممالک کے عوام کی زندگیوں میں آنے والی بہتری ہوگی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زونگ کی میڈیکل انٹیلیجنٹ ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی کمپنی کی نمائندہ ٹو یا نے کہا کہ ان کی کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی ) پر مبنی جدید طبی حل فراہم کر رہی ہے جن کا مقصد عالمی سطح پر پیدائشی نقائص اور موروثی بیماریوں کی روک تھام ہے۔
انہوں نے کہا کہ طبی شعبے میں نمایاں ترقی کے باوجود دنیا بھر میں ہر سال 3 سے 8 فیصد نومولود بچے پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جبکہ آبادی میں عمر رسیدگی اور خواتین میں تاخیر سے حمل کے رجحان کے باعث یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کمپنی مصنوعی ذہانت کی مدد سے بیماریوں کی ابتدائی مرحلے پر روک تھام کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ ہر خاندان کو صحت مند بچے کی نعمت میسر آ سکے۔چینی کمپنی کی جنرل منیجر نے کہا کہ کانفرنس کے دوران پاکستان کے 20 سے زائد طبی اداروں، جامعات، ڈاکٹروں اور کاروباری شراکت داروں کے ساتھ مفصل ملاقاتیں ہوئیں، جن سے پاکستان میں کمپنی کی مصنوعات متعارف کرانے اور صحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کو تقویت ملی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی مستقبل میں پاکستان میں فیکٹری قائم کرنے، مقامی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے اور پاکستان کو خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک علاقائی مرکز بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ٹو یا نے کانفرنس کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا یہ دورہ ان کے لیے ایک خوشگوار اور یادگار تجربہ ثابت ہوا جبکہ انہوں نے پاکستانی حکام اور کاروباری نمائندوں کو چین کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔شنگھائی فارما کمپنی کے نمائندے نے پاکستان چین فارماسیوٹیکل ڈویلپمنٹ اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس 2026 کے کامیاب انعقاد پر حکومت پاکستان اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے دوران بہترین انتظامات اور پرتپاک مہمان نوازی قابلِ ستائش رہی۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر صحت، ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی قیادت اور پاکستان و چین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے ان کے عزم کو سراہا۔چینی کمپنی کے نمائندے نے کہا کہ اس کانفرنس نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کے فروغ کے لیے مؤثر مواقع فراہم کیے ہیں جو پاکستان میں صحت کے شعبے کی بہتری میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔چین کی ہینان شِن زوو کمپنی لمیٹڈ کے جنرل منیجر کی نمائندگی کرتے ہوئے انجینئر محمد مدثر الدین نے پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور ٹیکس میں رعایتیں پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ چین میں بھی متعلقہ حکومتی پالیسیوں کے ذریعے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔انجینئر محمد مدثر الدین نے بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کی معاونت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ سفارتخانے نے پاکستان میں کاروباری روابط کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کی کانفرنسیں دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔








