اسلام آباد ۔ 11نومبر(اے پی پی) رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کے تجارتی خسارہ میں 34.85 فیصد کی نمایاںکمی ہوئی ہے۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال میں پہلی سہ ماہی میں جولائی تا ستمبر 2019ء کے دوران برآمدات میں 2.75 فیصد اضافہ جبکہ درآمدات میں 20.59 فیصد کمی کے نتیجہ میں تجارتی خسارہ 34.85 فیصد تک کم ہو …
تجارتی خسارہ میں تین ماہ کے دوران 34.85 فیصدکمی ہوئی، شماریات بیورو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11نومبر(اے پی پی) رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کے تجارتی خسارہ میں 34.85 فیصد کی نمایاںکمی ہوئی ہے۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال میں پہلی سہ ماہی میں جولائی تا ستمبر 2019ء کے دوران برآمدات میں 2.75 فیصد اضافہ جبکہ درآمدات میں 20.59 فیصد کمی کے نتیجہ میں تجارتی خسارہ 34.85 فیصد تک کم ہو گیا۔ اعداد وشمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے تین ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 5727 ملین ڈالر تک کم ہو گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران تجارتی خسارہ کا حجم 8791 ملین ڈلر رہا تھا اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کے تجارتی خسارہ میں 3064 ملین ڈالر یعنی 34.85 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پی بی ایس کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران قومی برآمدات 2.75 فیصد کے اضافہ سے 5374 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 5522 ملین ڈالر تک بڑھ گئیں جبکہ دوسری جانب درآمدات میں 20.59 فیصد نمایاں کمی ہوئی اور درآمدات حجم 11 ہزار 249 ملین ڈالر تک کم ہو گئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران 14 ہزار 165 ملین ڈالر رہی تھیں۔ اقتصادی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسی سے غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی جبکہ برآمدات کے فروغ کے اقدامات سے تجارتی خسارہ کو کم کرنے میں مدد حاصل ہوئی ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر ادئیگیوں کے دبائو میں بھی کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر پر ادائیگیوں کے دبائو میں کمی کے نتیجے میں روپے کی قدر میں بھی استحکام کا رجحان ہے اور اس کی قدر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔








